Achanank by Uzma Zia
By Aesthetic Novels

Achanank by Uzma Zia

Views: 44

Ep.1-36

”کیا کھاؤگی ؟بتاؤ؟“ اس نے اب یہ دوسری مرتبہ پوچھا تھا۔
جواب ندارد۔ کن پٹی پہ ہاتھ رکھے وہ ماتھے کو کھجانے لگی تھی۔
”کچھ بھی ۔۔جو تمہیں پسند ہو۔۔میں بنا لاتا ہوں۔۔“
”اچھا۔۔واقعی؟؟“ بھنوئیں سکیڑے اس نے طنز بھری نگاہیں لیے اسے دیکھا۔
”ہاں۔۔واقعی۔۔بتاؤ تو۔۔میں سب بنالیتا ہوں۔۔تم کہو۔۔کیا کھاؤگی؟“
”زہر۔۔لادوگے؟“ زہر آلود لہجے میں وہ بولی تھی جس پہ اسکی آنکھیں پھیل سی گئیں۔
اب اسے بھی غصہ آنے لگا تھا مگر اس نے خود کو ضبط ہی کیے رکھا۔ اپنے خشک لبوں پہ زبان پھیرتے ہی اس نے تھوک نگلا اور خود کو پرسکون کیا۔
”ہاں۔۔ابھی لے کر آتا ہوں۔۔شرط یہ ہے کہ تم کھالوگی۔۔“
عروہ نے آئی برو اچکا کراسے دیکھا جو بڑی ہی دیدہ دلیری سے یہ بول رہا تھا۔
اس سے پہلے وہ کچھ بولتی عادل کا فون بجا۔”جی مام۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔“
”میری بات کرواؤ اس سے۔۔“ عالیہ نے قدرے برہمی کا اظہار کیا۔
اس نے فون کان سے ہٹایا اور اسکے سامنے کیا۔وہ فون پکڑنے سے بھی نالاں تھی تبھی اس نے ملتجی نگاہیں لیے اسے دیکھاتو چاروناچار اسے فون پکڑنا ہی پڑا۔
”جی۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔آپ پریشان نہ ہوں۔۔“
”کیوں پریشان نہ ہوں عروہ۔۔اسے اپنی ذمہ داری کا احسا س ہونا چاہئے تھا۔ رات کے گیارہ بجے گھر آرہا ہے۔۔صبح میں خود آتی ہوں کراچی۔۔“
”نہیں۔۔اس کی ضرورت نہیں۔۔آپ۔۔“ اس نے سرعت سے کہا تھا۔
عادل آنکھوں کو سکیڑے سمجھنے کی کوشش میں تھا تبھی اس نے فون کان سے ہٹاکراسے کندھے اچکاکر دیکھا تو وہ چپ چاپ وہاں سے چلتا بنا۔
وہ باورچی خانے میں آیا اور اسکے کھانے کے لیے کچھ بنانے لگا۔ ”اسے کھیر تو بہت پسند ہے۔۔“ اسکے ذہن میں کسی کے الفاظ گھومے تھےتبھی وہ نیم انداز میں مسکرایااورکھیر بنانے میں جھُٹ گیا۔
دوسری طرف وہ عالیہ سے محوِ گفتگو تھی۔
”عروہ۔۔اپنے بیٹے کے بی ہاف پہ میں تم سے معافی مانگتی ہوں۔۔میں اسے سمجھاؤں گی۔۔آج کے بعد ایسا نہیں ہوگا۔۔“
وہ چپ چاپ خاموشی سے انکی ساری باتیں سنتی جارہی تھی۔
”جانتی ہو وہ تمہیں لے کر سنجیدہ ہورہا ہے۔۔اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرا بیٹا تم میں انٹرسٹ لے رہا ہے۔“
عالیہ کی یہ بات اسے گہری پریشانی میں مبتلا کرگئی تھی۔ ”جانتی ہو۔۔آج شوٹنگ کے دوران کیا ہوا؟“ کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے اس نے سوالیہ انداز میں کہا۔
”کیا ہوا؟“ تجسس آمیز لہجے میں وہ بولی۔
”عادل کی انسٹاسٹوری دیکھو۔۔ساری بات سمجھ آجائے گی۔۔“
”جی۔۔۔“ اس نے فوراً سے فون رکھا اور وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف جانے کی غرض سے آگے بڑھی ہی تھی کہ پھر سے اسکا دماغ چکرانے لگا تھا۔
پیروں میں تو جیسے ہمت ہی نہیں رہی تھی۔سر پہ ہاتھ رکھے وہ واپس سے بیڈ کی جانب بڑھی۔
”ارے۔۔تم پھر اٹھ گئی؟ بیٹھ جاؤ۔۔“ کھیرکا باؤل ہاتھ میں لیے وہ کمرے میں آیا ۔سائیڈ ٹیبل پہ جھک کر کھیر کا باؤل رکھتے ہی وہ سید ھا کھڑا ہوا۔
اس نے کھیر کی طرف نگاہ ڈال کر ایک نظر اسے دیکھا جواطمینان بھری نگاہیں اس پہ گاڑھے کھڑا مسکرارہا تھا۔
ناشتے میں بھی اس نے اسکی پسند کی چیزیں بنائی تھیں اور ابھی بھی۔ وہ شش وپنج میں مبتلا ہوئی۔
”زیادہ نہیں سوچو۔۔کھالو ۔۔پھر دوا بھی کھانی ہے۔“
”کھالوں گی لیکن ۔۔“
”لیکن؟؟“
”اپنے فون کا لاک کھول کر دو۔۔“ بے تاثر نگاہیں لیے اس نے کہا۔
اسکی فرمائش پہ وہ چونکا ضرور تھا مگر پھر اگلے ہی لمحے اس نے فون اٹھایا اور اسکے ہاتھ میں دیا۔
”وائے ناٹ میری جان؟“
اس نے چونک کر ذرا ہڑبڑاکراسے دیکھا۔
”پاسورڈ ہے۔تیمور کے پاس زیادہ تر ہوتا ہے۔اسی نے ہی لگایاتھا۔“ اگلے ہی لمحے اس نے اسکا تجسس دور کیا۔
بناء کچھ کہےاس نے پاسورڈ ٹائپ کیا اور ڈائریکٹ اسکی انسٹاگرام سٹوری پہ گئی ۔ اسٹوری پہ لگی ویڈیو میں اسے
ماہ پارہ شیخ کی کمرکے گرد حالہ بنایا دیکھ کر اسکے تن من میں آگ لگی تھی ۔وہ خود کی حالت کو سمجھنے سے قاصر تھی کہ آخر ماہ پارہ کو اسکے اتنے قریب دیکھ کر اسے کیوں برا لگ رہا ہے؟ اور عالیہ آنٹی نے یہ سب دیکھانے کے لیے اسے انسٹاسٹوری دیکھنے کا کہاتھا۔واقعی حیرانی کی بات تھی۔
”جب آپ کی نئی شادی ہو اور اوپر سے رومینٹک سین کسی ہیروئن کے ساتھ فلمانا ہو۔۔ نام پھر منہ سے بیوی کا ہی نکلتا ہے۔۔“ اسٹوری پہ لگے عنوان کو دیکھ کر وہ الجھن کا شکار ہوئی۔ ویڈیو اور عنوان دونوں ہی الگ الگ معنی بیان کررہے تھے۔
عادل اسے ناسمجھی والے انداز میں دیکھ رہا تھا آخر اس نے کرسی کو آگے کھینچا اور اس پہ ہاتھ باندھے اسکے سامنے بیٹھ گیا ۔وہ موبائل میں کیا ٹٹولنا چاہتی ہے ؟یہ سوال اسکے دماغ کو الجھارہا تھا۔
اس سے پہلے وہ اسے موبائل واپس کرتی اس نے موبائل کی آواز اونچی کی اور اسٹوری پہ لگی ویڈیو کو دوبارہ دیکھا۔
”تم نہیں جانتی کہ میں نے کتنا انتظار کیا ہے اس پل کا۔۔آج تم میری بانہوں میں ہو آفرین۔۔لیکن سچ کہوں تو آج صرف تمہیں دیکھنے کو جی چاہ رہا ہے۔۔ جی بھر کے دیکھنا چاہتا ہے تمہیں بختیار ملک۔۔۔اتنا جی بھر کرکہ۔۔تمہاری روح میں میری روح سماجائےاور پھر ہم دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی جدا نہ کرسکے۔۔لیکن ایک وعدہ کرو مجھ سے ۔۔کچھ بھی ہوجائے۔۔چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے تم مجھے سے کبھی دور نہیں ہوگی۔۔وعدہ کرو مجھ سے عروہ۔۔وعدہ کرو۔۔“
اپنے شوٹنگ پہ کہے الفاظ اسکے کانوں میں بھی گونجے تھے ۔اس نے سرعت سے آگے بڑھ کر اپنا موبائل اسکے ہاتھ سے لیا ۔
”یہ۔۔یہ سب۔۔“ اسکا دماغ ماؤف ہوکررہ گیا تھا۔ اس نے فوراً سے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے نوٹیفیکیشن پہ نظر ڈالی جہاں اسے مختلف ریلز ،پوسٹ اور اسٹوری پہ مینشن کیا گیا تھا۔
”یہ سب تیمور نے کیا ہوگا۔۔تم چھوڑو اسے۔۔کھانا کھاؤ۔۔“وہ بوکھلایا بوکھلایا سا تھا۔
بناء آنکھوں کو جھپکائے وہ اسے دیکھتی چلی جارہی تھی جبکہ وہ اس سے برابر نظریں چرانے لگا تھا۔
”جانتی ہو وہ تمہیں لے کر سنجیدہ ہورہا ہے۔۔اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرا بیٹا تم میں انٹرسٹ لے رہا ہے۔“
عالیہ کے الفاظ اسکے کانوں میں گونجنے لگے تھے ۔وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ کیاری ایکٹ کرے۔
”عروہ؟؟ “ اس نے اسکا نام لیا لیکن وہ تھی کہ بناء آنکھوں کو جھپکائے اسے دیکھتی جارہی تھی آخروہ خود ہی آگے بڑھا اور کھیرکاباؤل ہاتھ میں لیےباؤل میں چمچ ہلاتے ہوئے کھیرا کو ٹھنڈاکرنے لگا۔
کھیر کا ایک چمچ بھرکر اس نے اسکے سامنے کیا تو چاروناچار اس نے منہ کھولا اور کھیر کھانے لگی۔
جیسے جیسے وہ اسے کھیرکھلا رہا تھا اسکے اندر آنسوؤں کا سیلاب امڈنے لگاجس سے اسکا حلق بھاری ہوگیا۔آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔
”سچ میں زہر نہیں ہے اس میں۔۔“ اپنی صفائی میں جیسے ہی وہ بولا تو وہ بچوں کی طرح ہنس دی۔
ڈھیروں آنسو اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے۔
”کاش۔۔اس میں زہر ہوتا۔۔“آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے وہ بولی۔
”امی کی یاد آرہی ہے؟؟“ قدرے بے چارگی سے اسے دیکھ کر وہ بولا۔
بناء کچھ کہے وہ پھوٹ پھوٹ کررونے لگی۔ اس نے فوراً سے باؤل ایک طرف رکھا اور اسکے پاس آبیٹھا۔
”پلیز عروہ۔۔۔ سنبھالوخود کو۔۔میں ہوں ناں۔۔“ اسے شانوں سے پکڑے جیسے ہی وہ بولا تو وہ اپنا سر اسکے سینے سے لگائے بلک بلک کررونے لگی۔
”مجھے نہیں پتہ تھا کہ امی ابا سے میں اتنا دور ہوجاؤں گی کہ انکی شکل تک دیکھنے کو ترسوں گی۔۔ میں نافرمان تھی لیکن بدکردار نہیں تھی۔۔بس اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینا چاہتی تھی۔۔یہ نافرمانی ہوگئی مجھ سے۔۔میں نہیں جانتی تھی کہ اس سب میں ابا مجھےبے آسراکردیں گے۔“
”عروہ۔۔پلیز سنبھالوخود کو ۔۔میں ہوں ناں۔۔“ اسکاسر سہلاتے ہوئے وہ بولا تھا۔
وہ اسکے سامنے اپنے دل کا غبار نکالتے ہوئے خود کو بہتر محسوس کرنے لگی تھی کہ اچانک ایک سوچ نے دوسری سوچ سے پلٹاکھایا۔ ایک ہی جھٹکے سے اس نے اسکے سینے پہ رکھا اپنا سر اٹھایاتو وہ چونک اٹھا۔
سوالیہ نگاہیں لیے چونک کر اس نے اسے دیکھا۔”تم ہو۔۔یہی تو مسئلہ ہے۔۔“ یکدم اسکا لہجہ کرخت ہوا تھا۔عادل نے آنکھیں پھیلاکر اسے دیکھا۔
اسکا بدلاتاثر اور لہجہ دیکھ کر وہ ایک لمحے کے لیے کچھ بول ہی نہ سکا۔اسکی آنکھوں میں اسے اپنے لیے حقارت صاف نظر آرہی تھی۔
”کیا مطلب ہے تمہارا؟“ آخر اپنے حواس بحال کیے اس نے پوچھا۔
”اب مطلب بھی میں بتاؤں؟ یونیورسٹی تک چلو ٹھیک۔لیکن۔تم نے مس میگی کو بھی سب بتادیاکیوں؟“ قدرے ٹھوس لہجے میں کہتے ہوئے اس کی آواز بھرائی تھی۔
”مس میگی؟؟اب یہ کون؟؟“ بھنوئیں سکیڑے وہ بولاتو اس نے منہ بسور کر اسے دیکھا۔

Download

⬇ Download File

  • No Comments
  • February 7, 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *