Aisa Ahl E Dil Ho by Nabila Aziz
Views: 19
Aisa Ahl E Dil Ho Kidnapping-Based Novel by Nabila Aziz
Book Name: Aisa Ahl E Dil Ho
Author Name: Nabila Aziz
Genre: Forced Marriage-Based, Kidnapping-Based, Cousin Marriage-Based, Emergency Nikkah-Based, Haveli-Based, Village-Based, Rude Hero
Status: Complete
نفرت اور محبت کے گرد گھومتی شیرزاد اور مکتوم کی کہانی
میں کروں گا اس سے شادی۔ “مکتوم شاہ کی آواز اتنی بہت سی آوازوں کو يكدم ساکت کر گئی تھی سب نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا تھا لیکن وہ اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا کے اتنے چاہنے والوں میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھا سواۓ مكتوم شاہ کے ۔۔۔۔اور اس مكتوم شاہ کے جس کا بقول شہرزاد کے اپنا کوئی نام و نشان اپنی کوئی پہچان بھی نہ تھی جس کا کوئی حسب نسب نہیں تھا آج وہی مكتوم شاہ اس کی چادر سے اپنی عزت اور غیرت کا پلو باندهنے کو تیار کھڑا تھا۔
یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔؟
تم بھی تو شاہوں میں سے ہو تم بھی تو اسی خون اسی نسل کا حصّہ ہو تمہاری شادی اس سے کیسے ہو سکتی ہے۔؟مكتوم شاہ کے فیصلے پر سب سے پہلے چچا فیروز کو اختلاف ہوا تھا۔
“میں شاہوں میں سے ہوں یا نہیں میں نہیں جانتا البتہ انسانوں میں سے ضرور ہوں اور اس بات کا پکا یقین ہے اس لئے انسانیت کے خلاف کوئی کام نہیں ہونے دوں گا اس کی شادی مجھ سے ہی ہوگی ابھی اور اسی وقت۔۔۔۔۔ پیر سائیں اجازت دیجیے قاضی صاحب نکاح شروع کریں۔
چچا سائیں شہرز شہر زاد کی شادی کسی اور سے نہیں ہو سکتی ۔۔ ۔۔؟ کیا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔۔؟ ” عبیر شاہ بہن کے لیے روہانسا ہو رہا تھا۔۔”جو لڑکی اتنے دن اور اتنی راتیں گھر سے باہر رہے وہ کسی سید زادے کی زوجیت میں نہیں جا سکتی اور ویسے بھی کون پہنچایت کے فیصلے کو ٹھکرا سکتا ہے
اور اس سے شادی کر سکتا ہے یہ لڑکی ہمارے خاندان سے باہر ہو چکی ہے۔۔”ایسے حالات میں کوئی اپنا قبول نہیں کرتا غیر تو پھر غیر ہوتے ہیں آخر عزت بے عزتی کا معاملہ ہے۔۔۔” بہروز شاہ کا لحجہ کھردرا تھا۔۔عبیر شاہ نے ارمغان کو دیکھا وہ نظر پھیر کیا تھا۔۔۔”میں کروں گا اس سے شادی۔۔ “
مکتوم شاہ کی آواز اتنی بہت سی آوازوں کو یکدم ساکت کر گئی تھی۔۔ سب نے حیرانی سے اس کی سمت دیکھا تھا لیکن وہ اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اسے اپنی سماعتوں پہ یقین نہیں آیا تھا۔۔
✦✧✦⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯✦✧
یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ تم بھی تو شاہوں میں سے ہو تم بھی تو ایسی خون اسی نسل کا حصہ ہو تمہاری شادی اس سے کیسے ہو سکتی ہے ؟ مکتوم شاہ کے فیصلے پر سب سے پہلے چا فیروز شاہ کو اختلاف ہوا تھا۔
میں شاہوں میں سے ہوں یا نہیں یہ میں نہیں -جانتا البتہ انسانوں میں سے ضرور ہوں اور اس بات کا ریکا یقین ہے اس لیے انسانیت کے خلاف میں کوئی کام نہیں ہونے دوں گا اس کی شادی مجھ سے ہو گی ابھی اور اس وقت پیر سائیں اجازت دیجیے قاضی صاحب نکاح شروع کریں۔”
وہ آگے بڑھ کر صوفے پہ بیٹھ گیا تھا اور بڑی سی چادر میں لیٹی وہ دھواں دھواں ہو گئی تھی اس کا وجود پہلے ہی
خاک کا ڈھیر بنا ہوا تھا اب اس کی ذات بھی دھجیوں میں بکھر گئی تھی اس کے غرور کے پر خچے اڑ گئے تھے است اندازه نہیں نہیں تھا کہ وہ شخص اس پہ کرم کرے گا جس پہ ہمیشہ وہ ستم کرتی آئی تھی اس کے باوجود مکتوم شاہ اس بھری محفل میں اس کے سامنے دیوار کی مانند ڈٹ گیا تھا۔
اس کا نکاح قرآن سے ہو گا تم مداخلیت مت کرد اب کی بار بڑے چانے لب کشائی کی تھی۔
اس کا نکاح مجھ سے ہو گا یہ میرا آخری فیصلہ ہے اور اس فیصلے سے آپ لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ ” مکتوم کا لہجہ بے لچک تھا وہ اپنے
مقام پر اپنے فیصلے پر ڈٹ چکا تھا اور پیر سائیں بے جان سے بیٹھے اپنی رسوا عزت اور زندہ بیٹی کی لاش پہ کھڑے رشتے داروں کو دیکھ رہے تھے جن کو کسی کا احساس نہیں تھا بس وہ تو مٹھیاں بھر بھر مٹی ڈالنے کو تیار تھے اب اس مٹی تلے ان کی عزت دب جاتی یا لاڈلی بیٹی ان لوگوں کو بھلا کیا فرق پڑتا تھا اور لوگوں کی اسی بے حسی اور اپنی اسی بے بسی
یہ وہ چپ بیٹھے تھے بالکل جب پوں جیسے یہاں ان کی نہیں کسی اور کی بیٹی کی زندگی کا فیصلہ ہو رہا ہو۔
” تم جانتے ہو یہ فیصلہ پنچایت نے کیا ہے یا اس لڑکی کو کاری کر دیا جائے یا پھر قرآن سے نکاح کر دیا جائے گا اور نکاح کے بعد یہ صرف ایک کمرے میں رہے گی جہاں سے کبھی باہر نکلنے کا سوچنا بھی اس کا حرام ہو گا ۔ ” چچا فیروز شاہ نے اس کو پہنچایت کے اس فیصلے سے آگاہ کرنا چاہا جس سے وہ پہلے ہی یا خیر تھا۔
“تو پھر آپ اسے پ اسے کاری کردیں ۔” وہ انتہائی سکون کرد. ون سے بولا تھا۔ سب نے چونک کر دیکھا۔
میں ٹھیک کہہ رہا ہوں کیونکہ آپ کے خیال میں اسے کاری نہ کرتے ہوئے آپ اس کے ساتھ رعایت کر رہے ہیں اور اس کا نکاح قرآن سے کر کے اسے زندگی بخش رہے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ دونوں صورتوں میں آپ اپنے ہاتھوں سے اس کی زندگی ختم کر رہے ہیں قرآن سے نکاح کرنے اور ایک کمرے میں قید کر دینے کے بعد بھی آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا فیصلہ درست ہے آپ اس کے ساتھ نرمی برت رہے ہیں ؟ ہونہہ!
جسٹ شٹ اپ میں بکواس نہیں سننا چاہتا۔ ”وہ مشتعل ہونے لگا اور شہرذاد نے بےساختہ نم نگاہوں سے اسے دیکھا اور ہاتھ میں پکڑا موبائل اس کی سامنے والی جیب میں ڈال دیا۔وہ ابھی بھی اسی کے حصار میں تھی کیونکہ اسی حصار میں اس کی زندگی کا تحفظ تھا پھر وہ اس حصار سے نکلنے کی بےکار سی کوشش کیوں کرتی۔
“آپ تو بڑی سے بڑی باتیں برداشت کر لیتے ہیں یہ ذرا سا سچ برداشت نہیں ہو رہا۔”اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ اس نے شہرزاد کو ایک جھٹکے سے خود سے دور کیا وہ اس کے اتنے سکون اور اتنے یقین کو دیکھ کر پاگل ہی تو ہوا تھا لیکن یوں لڑکھڑا کر بیڈ پر گرتے وہ ذرا سا کراہی تھی اور پلٹ کر باہر جاتے جاتے رُک گیا۔ اس کی پشت پر ہلکا سا خون کا دھبہ دیکھ کر وہ چونکا تھا کیوں کہ اس کی کمر پر ترچھی سی لکیروں پہ تین چار خون کے نشان تھے۔ وہ جھک کر ان داغوں کو چھونے سے خود کو روک نہ پایا۔
“یہ داغ یہ زخم کیسے ہیں۔؟”مکتوم حیرت زدہ ہو چکا تھا لیکن وہ یوں ہی اوندھے منہ گرے سسک اٹھی تھی۔ وہ اس کے زخموں کو چھو رہا تھا۔
“شہرزاد میں کچھ پوچھ رہا ہوں یہ سب کیا ہے یہ نشان کیسے ہیں۔” اس نے جھٹکے سے اسے کندھوں سے تھام کر سیدھا کیا اور اپنے سامنے کر لیا تھا۔
“جب میرا کڈنیپ ہوا تو میں نے کھانا پینا بند کر دیا تھا اور جب میں نے تین چار روز کچھ نہیں کھایا تو وہ عورت جو مجھے کھانا دینے آتی تھی اس نے ایک دن مجھے چھڑی سے مارنا شروع کر دیا۔” وہ ہچکیوں سے بتا رہی تھی اور مکتوم کا دماغ ماؤف ہو گیا۔ وہ بے یقینی سے دیکھ رہا تھا کے اس نے کیسی کیسی اذیتیں سہی ہیں۔
Click Below and Download Novel in Pdf
Read Online
ناول پڑھنے کے بعد لازمی بتائیں آپ کو ناول کیسا لگا۔ شکریہ