DardGar By Wahiba Fatima
By Aesthetic Novels

DardGar By Wahiba Fatima

Views: 63

DardGar by Wahiba Fatima

Book Name: DardGar
Author Name: Wahiba Fatima
Genre: Force Marriage Based, Revenge Based, Hate to Love, Second Marriage Based, Domestic Violence
Status: Complete

یہ کوئی معمولی ڈومیسٹک وائلنس کو پروموٹ کرتی۔ تشدد کو گھٹیا طریقے سے فینٹسی بناتی کہانی نہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کے ایک بھیانک اور ہولناک رخ پر لکھی گئی کہانی ہے۔ جس کا اختتام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تشدد کرنے والا کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن کم از کم ایک ‘ہیرو’ نہیں ہو سکتا۔

اہم اعلان

اس تحریر کے تمام جملہ حقوق لکھاری کے پاس محفوظ ہیں۔ لکھاری کی اجازت سے یہ ناول صرف Aesthetic Novels Online پر شائع کیا جارہاہے۔ لکھاری کی اجازت کے بناء کوئی بھی اس ناول کو اپنی ویب سائٹ یا یوٹیوب چینل وغیرہ پہ اپ لوڈ نہ کرے۔ مزید معلومات کے لیے ہمارا چینل فالو کریں۔

“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں دادا جان، میں مر جاؤں گا لیکن ابا کی یہ فرمائش کبھی پوری نہیں کروں گا، کیونکہ میں نفرت کرتا ہوں اس لڑکی سے۔” اس کا لہجہ گستاخ ہوا ا۔ میر مراد خان نے لب بھینچ کر برداشت کیا لیکن یہ کھیتی آخر اپنی ہی تو بوئی ہوئی تھی جسے انھیں اب بس کاٹنا تھا۔ میر مراد خان نے لاڈلے پوتے سے فرقان اور ذیشان کی خواہش کا ذکر کیا۔ اور یہ وہی لمحہ تھا جب تمام گھر والے اور بشری اور شاہزیب سمیت سب بیٹھک میں داخل ہوئے تھے۔
“اگر میں کہوں کہ یہ میری بھی آخری خواہش ہے ازمیر خان تو کیا تم تب بھی نہیں مانو گے؟” انھوں نے بڑے آس بھرے لہجے میں پوچھا تھا لیکن نہیں جانتے تھے پتھر سے سر پھوڑ رہے ہیں۔ ( اب تک بیٹوں کے خلاف جتنا بڑا محاذ کھولا ہو۔ لیکن بڑھاپے میں اب اپنے خاندان کو سلوک اتفاق سے اکٹھے رہتے دیکھنا چاہتے تھے)
“گستاخی معاف دادا جان، ایک یہی بات اور حکم ہے جو میں آپ کی ہر گز نہیں مان سکتا، نا مجھ سے ایسی کوئی امید رکھیں آپ، نفرت ہے مجھے اس لڑکی سے وہ میرے معیار تک کبھی نہیں پہنچ سکتی، اور اگر آپ لوگوں نے مجھ سے زور زبردستی کی کوشش بھی تو میں اس لڑکی کو گولی مار کر خود کو بھی گولی مار لوں گا، یا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ حویلی چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔”
فرقان اور ذیشان اندر کمرے میں آتے دبخود ہوئے تھے۔ وہ اس زور سے دھاڑا تھا کہ ایک مرتبہ تو میر مراد خان کو بھی چپ سی لگ گئی تھی۔ سلمی بھی وہیں موجود تھیں پریشانی ان کے چہرے سے ہویدا تھی۔ ازمیر خان ان سب پر ایک سرسری نظر ڈال کر وہاں سے نکلنے لگا جب وہ اجڑے بکھرے سے حلیے میں آنکھوں میں آنسو لیے بڑی دیدی دلیری سے پھر سے اس کے سامنے آئی تھی۔ “لگے ہاتھوں مجھے بلکہ ہم سب کو اس نفرت کی وجہ بھی بتا دیں کہ میں نے کیا بگاڑا ہے آخر آپ کا؟ جو آپ میرے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہیں، میں نے تایا ابو اور بابا کے منہ سے بچپن سے یہی سنا ہے کہ میں ازمیر خان کی دلہن بنوں گی، اسی لیے یہ بات میری روح میں سرائیت کر چکی ہے کہ میں آپ کی ہوں اور آپ میرے تو آپ میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہے ہیں؟” وہ سسک سسک کر رو پڑی۔
جبکہ بشری کے سینے پر سانپ ہی تو لوٹ گئے تبھی تنفر اور حقارت بھرے انداز میں چیخ پڑیں۔
“اے ہے کیسی دیدہ ہوائی اور بے حیا لڑکی ہے جو سب بڑوں کے سامنے کیسے منہ پھاڑ کر اپنی شادی کی باتیں کر رہی ہے؟ سچ بتاؤ شہر کی یونیورسٹیوں میں آوارہ پھرتے یہی بے باکی اور بے شرمی سیکھی ہے تم نے؟ ایسی بے حیائی تو کوئی بدکردار لڑکی بھی نہیں۔”
“اپنی زبان کو لگام دو بشری، اپنی بیٹی کے کردار کا سرٹیفیکیٹ ہمیں تم سے لینے کی کوئی ضرورت نہیں، وہ سچ کہہ رہی ہے اس نے ہمیشہ یہی سنا اور اسے اپنی زندگی کی حقیقت مان بیٹھی ہے کہ اس کی شادی ازمیر خان سے ہوگی۔” فرقان خان غصے سے چیخے تھے لیکن ازمیر خان نے ان کو بیچ میں ٹوک دیا۔
“اور کس سے پوچھ کر آپ نے میری زندگی کا اتنا بڑا اور اہم فیصلہ کیا تھا؟ کیا میں نے آپ کو کبھی یہ حق دیا کہ آپ ایسا کریں؟ وہ بھی بلند آواز میں دھاڑا تھا۔ کافی بد لحاظی تھی۔۔ فرقان خان کے چہرے پر اذیت و تکلیف کے تاثرات تھے۔ اب وہ معجزا کی جانب گھوما تھا۔
“اور تمھیں لگتا ہے اپنی عزت پیاری نہیں جو ہر دفعہ میرے سامنے بے عزت ہونے آ جاتی ہو، خودداری نام کی کوئی چیز تم میں ہے بھی کہ نہیں؟ جب میں تمھیں پورے خاندان کے سامنے دھتکار رہا ہوں تو پھر بھی مجھ سے سوال کرنے کی ہمت ہے تم میں؟ تم ہی ہو وہ جب سے پیدا ہوئی ہو کسی عذاب کی طرح میرے سر پر مسلط ہوئی ہو، مجھ سے میری ماں میرے سب رشتے چھین لیے تم نے، میں نفرت کرتا ہوں تم سے، اور پھپھو بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں جتنی بے شرمی سے میرے سامنے کھڑی شادی کی باتیں کر رہی ہو؟ کیا ضمانت ہے تمھارے کردار کی؟ یونیورسٹی میں کیا کیا گل کھلاتی رہی ہو مجھے کیا معلوم؟ اور اب گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر مجھے آسان ٹارگٹ بنا لیا ہے تو جان لو میں اتنا آسان شکار۔”

“تو پھر مجھے بتاؤ، آج میکے میں کیا کیا کیا؟” وہ نرمی سے مسکراتے بڑے دوستانہ انداز میں پوچھا رہا تھا۔ معجزا نے اذیت کی شدت سے اپنے لب اور آنکھیں بری طرح بھینچ کر کھولیں۔ ایک گہرا سانس بھرا۔
“جب میں وہاں گئی تو مریم آپی آئی ہوئی تھیں، ان کے بچوں کے ساتھ لڈو کھیلتی رہی، تائی امی اور مریم آپی کے ساتھ مل کر ڈنر کی تیاری کروائی، باتیں کیں، پھر آپ لوگ آگئے کھانا کھایا اور گھر آ گئے ۔ ” اس نے رٹے رٹائے طوطے کی طرح بے تاثر لہجے میں ساری تفصیل بیان کی۔ لیکن وہ اٹھا۔ کیری کے بازوؤں پر ہاتھ رکھ کر ذرا سا آگے جھکا۔
درمیان کی بات بھی بتا دو، وہ تمھارا عاشق از میر خان اس سے کتنے دکھ سکھ گئے؟ اسے بتایا تمھارا شوہر تم جیسی بدکردار بدذات عورت سے کیسا سلوک کرتا ہے؟ اچھا بتاؤ، اپنے کمرے میں لے کر گیا تھا؟
معجزا نے اپنے دانت پر دانت جما لیے تھے۔ ایسے لمحات میں شدت سے دل کرتا تھا کہ اپنے کانوں پر اپنے ہاتھ جما لے۔ (لیکن یہ کرنے کی اجازت نہیں تھی) یا پھر مقابل کی زبان میں برف کا سوا گھسا گھسا کر کچل ڈالے۔ (لیکن یہ وہ کر نہیں سکتی تھی۔)
تنہائی میں ملاقات تو کی ہوگی، اسے اپنی گردن کے نشانات بھی دکھائے ہوں گے؟ کیسے مسیحائی کی اس نے؟ مرہم لگا کر یا پھر اپنے لمس سے ؟
“تھو۔۔ ” جب ضبط کی طنابیں ہاتھوں سے چھوٹ گئیں تو معجزا نے مقابل کے منہ پر تھوک دیا تھا۔ (ہمیشہ کی طرح) اور پھر خود ہی اپنے ہاتھ کرسی کے ہاتھوں پر بندھی رسی میں پھنسا لیے تھے۔ جانتی جو تھی اب آگے کیا ہونے والا ہے۔ شاہزیب نے اپنی آستین سے اپنا منہ صاف کیا۔ اپنی پینٹ میں سے چمڑے کی بیلٹ نکالی۔ ( جیسے معمول کی بات ہو۔ ) اور وہ بیلٹ معجزا پر برسانے لگا۔ وہ چینی نہیں تھی۔ پہلے چند لمحے دانت پر دانت جما کر درد برداشت کرتی رہی۔ پھر اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ پھر چند اور ضربوں پر جسم لرزنے لگا۔ چند اور ضربیں پڑیں تو لبوں سے دلخراش چیخیں نکلیں اور رات کی تنہائی میں پورے گھر میں گونجنے لگیں۔

Click Below and Download Novel in Pdf

Download

⬇ Download File

  • No Comments
  • February 9, 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *