Dil Wahin Pe Hai Tehra Hua By Hayat Khan
By Aesthetic Novels

Dil Wahin Pe Hai Tehra Hua By Hayat Khan

Views: 14

Dil Wahin Pe Hai Tehra Hua By Hayat Khan

Genre: After marriage, Family drama, Emergency Nikkah, Past based, Romantic, Politics, Age difference, Revenge, Siblings, Strong heroine, Rude+caring hero, Social romantic, RomCom, Amnesia Disease Hero

اس طرح روتا چہرہ لے کرباہر مت جائیں۔”
فکر مت کریں سر آپ کی شان پہ بات نہیں آئے گی۔
وہ بنا پلٹے بولی تھی۔
وہ چلتے ہوئے اس کے سامنے آئے اور ہاتھ کی پشت سے اس کے آنسو پونچھے۔
آپکی شان پر بات آسکتی ہے۔۔اور مجھے یہ منظور نہیں۔”
فکر نہ کریں میری وجہ سے کسی سکینڈل میں نہیں پھنسیں گے آپ
” لہجے میں بیویوں کی ناراضگی در آئی تھی۔
بیوی کے ساتھ سکینڈل میں نام آنا کچھ نیا ایڈوینچر ہوگا۔”
عیان نے ترشی سے انہیں دیکھا۔
” میں آپکی بیوی نہیں ہوں بس پیپرز کی حد تک آپکا نام جڑا ہے میرے نام کے ساتھ۔“ بولتے ہوئے آنسو حلق میں اٹکے تھے۔
بیوی تو بیوی ہوتی ہے یہ پیپرز کی حد تک بیوی ہونا کیا ہوتا ہے۔

داؤد اورکزئ نے چمچ کی جانب ہاتھ بڑھانا چاہا مگر ہاتھوں کی کپکپاہٹ نے ایسا ہونے نہ دیا تھا۔ وہ حد درجہ پریشان ہوۓ تھے۔ ایسا تو پہلے نہ ہوا تھا کہ انکے ہاتھ کسی چیز کو پکڑ نہ پا رہے ہوں۔ عیان جو کھانا سرو کر کے بیٹھی ہی تھی انکے چہرے کے زاویے دیکھتی ٹھٹھکی تھی۔ داؤد اورکزئ مٹھی بھینچے ہوۓ تھے۔ چہرے پر تکلیف کے آثار تھے۔ ایک لمحے میں وہ انکی کیفیت کو جان گئی
تھی۔ اس نے انکی بند مٹھی پر ہاتھ رکھا۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو کیا میں آپ کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلا سکتی ہوں؟ پلیز میں ان لمحوں کو بہت خوبصورت
بنانا چاہتی ہوں۔
اسکے لہجے میں التجا تھی۔ داؤد اورکزئ کے چہرے کے تاثرات کچھ نارمل ہوئے تھے۔ انہوں نے اثبات میں سر ہلاتے
اجازت دی۔ عیان چہرے پر ڈھیروں خوشی لیے چمچ میں چاول بھرنے لگی تھی۔ گو کہ دل ہتھیلیوں میں دھڑکنے لگا تھا مگر اس وقت اپنی غیر ہوتی حالت سے زیادہ ضروری
داؤد اورکزئ تھے۔ انہوں نے ایک نوالہ اسکے ہاتھ سے کھایا تھا۔ آنکھیں دھندلانے لگی تھیں۔ بے اختیار ہی انہوں نے
اسکا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا تھا۔ عيان بالكل ساكت سانس تک روک گئی تھی۔

Download

⬇ Download File

  • No Comments
  • February 13, 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *