Haan Tum Mujhe Qabool Ho by Shazia Chaudhary
By Aesthetic Novels

Haan Tum Mujhe Qabool Ho by Shazia Chaudhary

Genre: Forced Marriage Based, Digest Novel, Rude Hero Based

 

اگر ایسا ہی نفس پرست ہوتا تو آج تم میرے تین چار بچوں کو پال رہی ہوتیں اور میں چاہوں تو تمہیں تمہاری اس درجہ زبان درازی اور بد تمیزی کا بڑی آسانی سے مزا چکھا سکتا ہوں۔ تمہیں ایک دو دن کے لیے ۔ کسی ہوٹل یا میں لے جا کر اپنی گھڑیاں رنگین کر لینے کے بعد طلاق دے دوں تو بتاؤ کیا بگاڑ لو گے تم لوگ میر ا ؟ قانونی حق رکھتا ہوں تم پر جب جی چاہے استعمال کر سکتا ہوں۔ میرا تو کچھ نہیں جائے گا ہاں تمہارے نام نہاد کنوار پن کا بھید کھل جائے گا۔

 

رات بہت ہو گئی ہے، میرا خیال ہے اب سو جانا چاہیے۔“ دفعتاً وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے قریب آگیا۔ خوف سے اس کا دل دھڑک کر جیسے حلق میں آگیا۔ وہ بے ساختہ غیر محسوس انداز میں پیچھے سر کی تھی۔ اس نے اپنی جیکٹ اتاری۔ میرا خیال ہے اب سوچنے سمجھنے کا وقت نہیں رہا۔ “ معا اس کی کمبھیر آواز کمرے کے سنائے میں ابھری۔ وہ سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ زرمل کو جیسے کرنٹ سا لگا۔ اس کا لہجہ اسے بہت غیر معمولی اور ذو معنی محسوس ہو رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔ بالاخر وہ وقت آن پہنچا تھا جب وہ اپنی تمام تر وحشتوں کو اس کے وجود میں منتقل کرنے کے لیے قطعی آزاد تھا۔۔۔۔

 

اسے طلاق کے کاغذات وصول ہوئے تھے اسکی بیوی اسی کی اسٹونڈ ہے وہ گائوں سے کچھ ماہ قبل یہاں پڑھانے کے غرض سے آیا تھا اسکی شادی دادا جان کی ضد تھی اسکی بیوی اس سے نفرت کرتی ہے اسکی نظر میں گائوں کے لوگ حوس پرست ہیں۔۔۔ ” وہ بیٹھے ہیں اندر ؟؟ عباس حیدر کے روم سے نکلتے اپنے کلاس فیلو اسفند یار سے بگڑے بگڑے انداز میں پوچھا۔۔۔۔” وہ کون؟ بے چارا اسفند یار ہکا بکا اس کی شکن آلودہ پیشانی دیکھ رہا تھا۔

“وہ۔۔ وہی جزبر سی ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔اسر عباس۔ اس کے لہجے میں کڑواہٹ سی گھل گئی تھی اس کا نام لیتے ہوئے۔۔۔ پھر اسفند یار کے اثبات میں جواب دینے پر وہ جیسے پیر پٹختی ہوئی اندر داخل ہوئی تھی۔ وہ ٹیبل پر جھکا انہاک سے کچھ پڑھ رہا تھا۔ ” اس پر سائن فرمادیجئے بہت چبا چبا کر بولتے ہوئے اس نے کچھ پیر ز اس کے سامنے بیٹھے تھے۔ مما نے بتایا تھا کہ کل پا پانے مما کے کہنے پر عباس کو طلاق کے کاغذات بنوا کر بھیجوائے تھے دستخط کروانے کے لیے۔۔

لیکن کل وہ کاغذات جوں کے توں واپس مل گئے تھے رجسٹری کی شکل میں۔

عباس نے نہایت سکون سے سر اٹھایا۔ ایک تلخ ناگوار نگاہ اس پر ڈالی اور پھر کچھ کہے بناہاتھ سے پیپرز ایک سائیڈ پر کر کے دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔یوں جیسے کمرے میں ایک جیتا جاگتا حسین و نو خیز وجود نہ ہو پتھر کا مجسمہ دھرا ہو۔۔۔۔۔ ” کیا مطلب ہے آپ کا؟ اس کے تو سر پر لگی اور تلوئوں پر بھیجی۔۔۔”

آپ کو دستخط کرنا ہوں گے اوہ ہٹ دھرمی سے بولی۔۔۔

عجیب تماشا بنایا ہوا ہے میں آپ کی نفس پرستی کی بھینٹ نہیں چڑھوں گی سیٹر بھی ہی چاہیے تو کوئی اپنے معیار کی ڈھونڈیں اور” ویو شٹ اپ ایک بیک اسکے لہجے میں آتش فشاں دہک اٹھا تھا۔۔۔ وہ بڑی برداشت رکھنے والا بندہ تھا اور بہت کم آوٹ آف کنڑول ہوتا تھا۔ مگر زر ملل کے اس درجہ نخوت آمیز تحکمانہ انداز نے اس کے اندر آگ سی بھر دی۔ وہ جس کاٹ دار اور توہین آمیز انداز میں اس سے مخاطب ہوئی تھی میں نے اس کےاندر وحشت سی بھر دی۔ مرد اپنی مردانگی پر ضرب پڑتے ہی زخمی شیر بن جاتا ہے۔۔۔۔ وہ لمحہ بھر میں ڈک بھر کر اس کے سامنے آیا اور غصے سے سرخ پڑتے چہرے سمیت آگے بیٹھ کر ایک جھٹکے سے اس کا بازو پکڑ کر اپنی جانب کھینچ ڈالا۔ا س نے سان و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اس درجہ جسارت کا مظاہرہ بھی کر سکتا ہے۔ اس کی نظروں میں تو جیسے زمین و آسمان گھوم گئے۔۔۔۔ ” میں لعنت بھیجتا ہوں تم پر تمہاری صورت اور تمہارے اسٹیٹس پر ۔۔۔ اس کے دونوں ہاتھ آہنی گرم سلاخوں کی طرح اسکے دونوں کندھوں پر جم گئے اس کا الجھتا ہوا پر تپش تنفس زرمل کو بھاپ کی طرح چہرے پر لگ رہا تھا۔۔۔۔ اس کا پر کشش مردانہ چہرہ سرخ ہو کر بالکل قندھاری انارین گیا تھا۔ وہ اپنی کاری چوکڑی بھول کر پھٹی پھٹی دہشت زدہ آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔۔۔ احساس ذلت کے سبب اس پر جیسے خون سوار ہو گیا تھا۔۔ زرمل کا دل خوف سے بند ہونے لگا۔ مرد کا ایسا جارحانہ اور وحشی روپ کب دیکھا تھا۔ ” میرے اختیار میں ہوتا ہاں توایک دہائی قبل اپنا تمہارے نام کے آگے سے مٹا چکا ہوتا۔ دادا جان کی التجائیں ہاتھ باندھ دیتی ہیں ورنہ ۔۔۔ ” اس نے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا لیا۔ ” تم انے جیسی لڑکیاں تو میری ٹھوکروں میں ہوتی ہیں ؟ ایک ثانیے کو رک کر اس نے تحقیر آمیز لہجے میں اپنی بات مکمل کی۔ جانتا ہوں اچھی طرح تمہارے سطحی مزاج کو میں۔ آخر ماں کی تربیت یافتہ ہو ۔ ” اس کے لہجے کی کاٹ اور چھن نے زرمل کو کھولا کر رکھ دیا۔ آپ کون ہوتے ہیں مجھ پر یا میری ماں پر الزام تراشی کرنے والے۔” وہ بے ساختہ ابل پڑی۔۔۔۔ اور چھوڑیے میرے بازو شرم آنی چاہیے آپ کو۔ “

 اور دوسرے ہی لمحے ایک زنانے تھپڑ اسکا گل سرخ کر گیا تھا۔ اگر میں ایسا ہی نفس پرست ہو تا تو آج تم میرے تین پر چار بچوں کو پال رہی ہو تیں اور میں چاہوں تو تمہیں تمہاری اس درجہ زبان درازی اور بد تمیزی کا بڑی آسانی سے مزہ چکھا سکتا ہوں۔ تمہیں ایک دو دن کے لیے کسی ہوٹل میں لے جا کر اپنی گھڑیاں رنگین کر لینے کے بعد طلاق دے دوں تو بتاؤ کیا بگاڑ لو گے تم لوگ میر ا؟؟؟ شرعی و قانونی حق رکھتا ہوں تم پر جب جی چاہے استعمال کر سکتا ہوں۔ میرا تو کچھ نہیں جائے گا ہاں تمہارے نام نہاد کنوار پن کا بھید کھل جائے گا اور تمہیں سر آنکھوں پہ بٹھانے والے تمہارے حلقہ احباب کے لوگ جن سے تم لوگوں نے یہ تعلق خفیہ رکھا ہوا ہے ان پر جب یہ کھلے گا کہ تم نے اپنے باپ کی عزت کا جنازہ نکال دیا ہے تو تم پر ایک کے بعد دوسری نظر ڈالنا بھی گوارا نہیں کریں گے۔ تم لوگ کہیں مند دکھانے کے قابل نہیں رہو گے۔”

اس کے ہاتھوں کا آہنی وحشیانہ دباؤ ایک ایک کر کے اسکی ساری مدافعانہ حسیات کو سلاتا چلا گیا۔۔۔۔ ” چھوڑ دیجئے مجھے پلیز ” اسکا لہجہ آنسوئوں میں ڈوب گیا تھا۔

اس کی سمی سبھی نظروں میں اتر تا پانی کام کر گیا تھا۔ لب کاٹتے قہر آلودہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بلا آخر اسے چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا۔۔۔ اور اپنی ناہموار سانسیں متوازن کرنے لگا۔۔۔۔ آئندہ میرے ساتھ اس طرح کی گفتگو کی تو نتیجے کی زمیدار آپ خود ہوں گی۔۔۔۔۔” وہ اپنے اندر کے اشتعال اوروحشت سے بھرے مرد کو نئے سرے سے گہری نیند سلانے کے لیے رخ موڑ کر دونوں ہاتوں کو مضطر بانہ انداز سے آپس میں رگڑتے ہوئے اپنے اعصاب پر سکون رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

میں بدستور دادا جان کو اس سلسلے میں راضی کرنے میں لگا ہوا ہوں جس دن محسوس کر لیا کہ میرا فیصلہ ان کے دل اور اعصاب پر بجلی بن کر نہیں گرے گا اور وہ اس امر کو قبول کرنے پر ذہنی طور پر آمادہ ہو جائیں گے اسی دن آپ کے حسب منشاء کا غذات آپ کو مل جائیں گے مجھے آپ کو اپنی ذات سے نتھی رکھنے کی قطعی کوئی چاہ نہیں۔۔۔ ” اس کے سر دلب و لہجے میں تحکم در آیا تھا۔۔۔۔ جا سکتی ہیں اب آپ۔ ” وہ اسپاٹ انداز میں کہ کر ایک دم پلٹا اور کرسی پر بیٹھ کر کتاب اپنے چہرے کے آگے رکھ لی۔۔۔۔۔ زرمل تھکے تھکے قدموں سے بمشکل خود کو ٹھسیٹتی ہوئی باہر نکل گئی۔ اسے اس قدر سبکی محسوس ہو رہی تھی کہ زمین میں دفن ہو جانے کو جی چاہ رہا تھا۔ سو اس نے بدلہ لینے کی ٹھان لی اور اس کی خواہش بالآخر پوری ہو گئی۔

 

  • No Comments
  • March 15, 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *