Hisab E Dil Rehne Do By Nabila Aziz ano2007
Views: 40
Hisab E Dil Rehne Do By Nabeela Aziz
Book Name: Hisab E Dil Rehny Do
Author Name: Nabeela Aziz
Genre: Romantic Novel, Boss Hero Based, Second Marriage Based, Contract Marriage Based
Status: Completed
دفعہ ہوجاؤ یہاں سے میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی”۔وہ مرے مرے قدموں سے گھر میں داخل ہوئی تھی لیکن امی نے دو ہتڑ مارتے ہوئے اسے صحن سے پیچھے دھکیل دیا تھا۔
“امی۔”اروی کی آواز کسی کنویں سے آتی ہوئی سنائی دی تھی۔
مرگئی تمہاری امی۔قتل کردیا تم نے ہم سب کا۔زندہ درگور کردیا ہمیں۔کہی منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا ہم کو۔آج جگہ جگہ ہمارے گھر کی باتیں ہورہی ہیں۔خاک ڈالی ہے تم نے مرے ہوئے باپ کی عزت اور نام پر۔امی کا ایک ایک لفظ ذہر میں بجھا ہوا تھا۔
“امی پلیز۔پہلے ایک بار میری بات تو سن لیں۔پہلے ایک بار مجھ سے کچھ پوچھ لیں۔”اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تھا۔
“تم سے کیا پوچھوں۔یہی کہ تو اتنا عرصہ اس شخص کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی رہی ہے۔ہمیں دھوکا دیتی رہی ہے۔اپنی حرام کی کمائی ہماری رگوں میں اتارتی رہی ہے۔ایک شادی شدہ مرد کی۔۔۔”
“پلیز امی پلیز اللہ کیلیے ایسا کچھ مت کہیں۔پہلے میری بات تو سن لیں۔پلیز امی۔ایسا کچھ نہیں ہے جو آپ سمجھ رہی ہیں۔”
“اچھا۔اچھا۔۔ابھی بھی ہم ہی سمجھ رہے ہیں۔گویا ہمارا ہی قصور ہے۔واہ کیسی دیدہ دلیری ہے میڈیم کی۔”ثمینہ بھابھی لپک کر میدان میں آئی تھی۔
“بھابھی پلیز میرا کسی کے ساتھ کوئی ناجائز تعلق نہیں ہے۔ہمارا نکاح ہوا تھا۔ہم نے شادی کی تھی۔شاروی کے صفائی دینے پہ ثمینہ بھابھی تمسخرانہ انداز میں قہقہہ لگا کر ہنسی تھی۔
“یعنی چوری چوری نکاح بھی کرلیا اور ہمیں بتایا بھی نہیں۔لگتا ہے بڑی جلدی تھی تمہیں شادی کی۔”انہوں نے مزید طنز کے تیر چھوڑے تھے۔اروی چپ سی ہوگئی۔
“اونہہ۔خود نیک پاکباز بی بی دوسروں کے شوہروں کے ساتھ زنا کا کھیل کھیلتی رہی اور الزام دے رہی تھی میرے بھائی کو۔اگر اتنا ہی شوق تھا ہوٹلوں میں کسی کے ساتھ گلچھڑے اڑانے کا تو جرار کو بتادیتی۔وہ آئے روز تمہیں ساتھ لیے پھرتا۔ویسے کتنے عرصے سے دل بہلارہی ہو عارفین شیرازی کا؟”۔بھابھی کے تیز نوکیلے جملے نے اس کا کلیجہ چھلنی کر ڈالا تھا۔اس نے ڈبڈبائی نظروں سے ماں کی سمت دیکھا۔
اروی تمہیں شاید اندازہ نہیں ہے کہ جس حقیقت سے تم دامن چھڑا رہی ہو، نظریں چرارہی ہو، میں اس حقیقت کو ہر زاویے سے، ہر لحاظ سے قبول کر چکا ہوں۔ عارفین شیرازی کا لہجہ کافی مضبوط تھا۔
کون سی حقیقت سر ؟
وہ بے حد اجنبیت اور لا تعلقی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔
تم اچھی طرح جانتی ہو اروی ! پلیز اس طرح بات نہ کرو۔ عارفین کے لہجے میں پل بھر میں تھکن اتر آئی تھی۔
سر میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ ہمارے درمیان جو کچھ بھی ہوا ہے وہ ایک ڈرامہ تھا اور اس ڈرامے میں دو کریکٹر تھے اروی حیات اور عارفین شیرازی اور ان دونوں کریکٹرز کا اپنے آپ پر کوئی اختیار نہیں تھا ان کا تمام دارومدار اور اختیار ڈرامے کی ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کے ہاتھ میں تھا یعنی زوئلہ شیرازی اینڈ رابعہ شیرازی کے ہاتھ میں اور اب جب اس سوپ سیریل کا اختتام ہو چکا ہے تو آپ اسے رپیٹ کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ ایک ڈرامہ ایک بار ہی ہٹ ہوتا ہے، بار بار رپیٹ کرنے سے نہیں، پلیز بھول جائیں اس بات کو کہ جو گزرا حقیقت تھی، بلکہ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ جو ہوا ڈرامہ تھا۔
ایک ڈرامہ ختم ہو تو دوسرے ڈرامے کی تیاری کی جاتی ہے، پلیز آپ بھی کسی نئے ڈرامے پر توجہ دیں اور پھر سے تیاری شروع کر دیں۔ اروی نے کافی نپے تلے اور کھرے کھرے لفظوں میں اسے اپنی اہمیت اور دائرہ سمجھا دیا تھا۔ جس پہ چند سیکنڈز کے لئے عارفین شیرازی کچھ بھی نہ کہہ پایا تھا۔
تم آخر چاہتی کیا ہو؟ تم نے کیا سوچا ہے اس سارے قصے کے بارے میں عارفین کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اروی کو کیسے سمجھے اور اسے کیسے سمجھائے؟ شاید ان کی کیفیات، تاثرات اور جذبات اس مقام پہ تھے جہاں لفظوں کا دائرہ اور اظہار کا پیراہن بھی کم پڑ جاتا تھا، بالکل اسی طرح عارفین شیرازی ٹھیک سے اظہار نہیں کر پا رہا تھا اور اروی اس کے احساسات کو سمجھ نہیں پا رہی تھی اور اس بات پر وہ جھنجھلا اٹھتا تھا۔
کوئی بھی شریف لڑکی کسی غیر مرد کے ساتھ اس طرح رنگ رلیاں نہیں منا سکتی۔ اروی حیات رات کے اس پہر اگر میرے ساتھ ایک کمرے میں نظر آ رہی ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ میری بیوی ہے، ہم دونوں کا نکاح ہو چکا ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی ہیں، ہم جب چاہے جہاں چاہے ایک ساتھ نظر آ سکتے ہیں۔ عارفین نے جرار کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا۔
کیا ثبوت ہے کہ آپ دونوں میاں بیوی ہیں ، نکاح کب ہوا تھا؟ کیا آپ کے گھر والے اس نکاح کے بارے میں جانتے ہیں؟ کیا اروی حیات کے گھر والوں کو پتہ ہے؟ آپ کا نکاح کس شہر میں ہوا تھا؟ ہر طرف سے سوالوں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی اور عارفین ہوٹل کی راہداری میں کھڑا نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا ، صرف اس لئے کہ اروی کے کردار پہ بد چلنی اور بدکاری کا داغ نہ آنے پائے۔ ”ہمارا نکاح دو سال پہلے کراچی میں ہوا تھا، اس نکاح کے بارے میں میرے گھر والوں کو پتہ ہے اور ثبوت کے طور پر میں اپنے نکاح نامے کی فوٹو کاپی آپ لوگوں کو دکھا سکتا ہوں جو فی الحال میرے روم میں بریف کیس میں رکھی ہے۔ عارفین کا لہجہ مضبوط دوٹوک اور سچا کھرا تھا۔
Click Below and Download Novel in Pdf
Download File
⬇ Download NowRead Online
ناول پڑھنے کے بعد لازمی بتائیں آپ کو ناول کیسا لگا ۔ شکریہ