Mausam E Gul Ki Dastak By Fozia Ghazal
Views: 17
Mausam E Gul Ki Dastak By Fozia Ghazal
Genre: Contract Marriage, Boss Hero, Happy Ending
Old sharing se select hero Boss+contract marriage+After marriage nice story hai,,,
Hero Wasif Durrani heroin Zobaria ka boss hai jo us se contract marriage krta hai
Nice story chalay gi jinko es types ki story pasand hain wo read kren,,,
“کل جب میں تمہیں طلاق دوں گا تو کیا جواز پیدا کروں گا۔اپنے رویے کو میرے گھر والوں کے ساتھ اتنا اچھا مت کرو کہ حالات سخت سے سخت تر ہوتے جائیں۔کوئی ضرورت نہیں ہے آگے ہوکر ماما کے کام کرنے کی بلکہ اپنے لب و لہجے میں تلخی روا رکھو۔ایسے دو ٹوک اور اکتائے ہوئے انداز میں پیش آؤ کہ حالات خودبخود اس ڈرامے کو ختم کرنے کیلیے سازگار ہوجائیں۔”
“میں ایسا نہیں کرسکتی مجھے کسی کو دکھ دینا یا ناراض کرنا نہیں آتا۔میں کسی کے ساتھ برا رویہ اختیار نہیں کرسکتی۔بداخلاق لوگ مجھے زہر لگتے ہیں۔”اس کی آواز بھراگئی۔
“یہ بداخلاقی حقیقت نہیں بلکہ ڈرامہ ہے۔”وہ عاجز ہوکر بولا۔
“آپ کے گھر والوں کو کیا معلوم کہ یہ ڈرامہ ہے۔ان کیلیے تو یہ ایک حقیقت ہے۔”اس کی آواز قدرے تیکھی ہوئی۔
“”حقیقت مائی فٹ۔تم صرف وہی کرو جو میں کہ رہا ہوں۔ڈرائیور کو ساتھ لے کر مارکیٹ کے چکر لگاؤ۔ڈھیروں شاپنگ کرو۔لانگ ڈرائیو پہ جاؤ گھر والوں کو بلکل اگنور کردو اور اگر تمہیں کوئی بلائے تو بلکل روڈ ہوکر جواب دو اور سب سے بڑھ کر الگ گھر کا مطالبہ کرو۔”وہ اب قدرے تح سے بولا تھا۔
“مجھے یہ سب نہیں آتا نہ ہی میں کروں گی۔آپ خود کرلیں۔”اب کی بار وہ بےنیازی سے بولی۔
“شٹ اپ۔اگر مجھے یہ سب کرنا ہوتا تو میں تم سے نکاح کیوں کرتا۔آج کل کی لڑکیاں اتنی سٹریٹ فارورڈ ہیں تم ہی انوکھی اٹھارویں صدی کی پیداوار ہو۔”وہ ترشی سے بولا۔
“تو آپ اکیسویں صدی کی لے آتے مگر مجھ سے یہ امید مت رکھیں کہ میں چابی کی گڑیا کی طرح اپ کے اشاروں پہ ناچتی جاؤں گی۔”
“تم یہ سب کرو گی کیونکہ تم نے یہ سب کرنے کی ایک بھاری قیمت لی ہے۔تم صرف وہی کرو گی جس کیلیے یہاں لائی گئی ہو۔خوابوں کی دنیا سے باہر نکل آؤ۔”وہ درشتی سے کہ کر باپر نکل گیا۔