Phir Mausam E Gul Ne Pukara Haafti by Rukhsana Nigar
Views: 6
Phir Mausam E Gul Ne Pukara Hai by Rukhsana Nigar
Genre: After Marriage, Heart-touching Story, Mature couple, Toixc inlaws, Strong heroine, Social issue
کہانی کے ہیرو مغیث کی ملاقات یونیورسٹی میں سمیطہ سے ہوتی ہے ۔ سمیطہ ایک اچھے اور خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ مغیث کا خاندان مالی طور پر اتنا مضبوط نہیں ہوتا۔ مغیث سمیطہ کو پسند کرنے لگتا ہے اور باقاعدہ رشتہ بھیجتا ہے۔ رضامندی کے بعد دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔
شادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ مغیث پر پورے گھر کی ذمہ داریاں آ جاتی ہیں۔ حالات سنبھالنے اور مستقبل بہتر بنانے کے لیے وہ بیرونِ ملک چلا جاتا ہے۔ اسی دوران سمیطہ ایک بیٹی کو جنم دیتی ہے اور پھر دوبارہ امید سے ہوتی ہے۔
مغیث کی غیر موجودگی میں سسرال میں ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ سمیطہ آدھی رات کو اپنے دونوں بچوں کو سسرال چھوڑ کر والدین کے گھر واپس آنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ آگے کیا ہوتا ہے؟ کن حالات سے گزر کر کہانی آگے بڑھتی ہے؟
یہ سب جاننے کے لیے یہ خوبصورت ناول ضرور پڑھیں
اختتام خوشگوار ہے
واقعی ایک یادگار اور جذباتی کہانی
” میں تمہیں لینے آیا ہوں۔” اس نے ان سنی کر دی اور کتابوں کی ترتیب درست کرنے لگی۔ سمیہ ! میں تمہیں لینے آیا ہوں۔ ” مغیث نے نرم لہجے میں اپنی بات دہرائی۔ اس کے ہاتھ ایک لمحے کور کے اور پھر وہ مغیث کی طرف پلٹی۔ ” جانے کا سوال بعد میں آتا ہے مغیث صاحب ! پہلے آنے کی بات کریں کہ میں یہاں کیوں آئی؟” اس نے سرد لہجے میں کہا۔ ” اس بات کو بھول جاؤ۔ ” مغیث نے نظریں چرا کر کہا۔ بھول جاؤں ؟” وہ زور سے بولی۔” ذلت کے اس احساس کو بھول جاؤں۔ بھول جاؤں ان لمحوں کی اذیت کو جنہوں نے میرے پندار کو میرے کردار کو پاش پاش کر دیا تھا سب کے سامنے ۔ آپ نہیں گزرے نا اس پل صراط سے جو ذلت کے گڑھے کے اوپر سے گزرتا ہے جس کی بدبو کے بھبکیوں نے میرے اندر کو متعفن کر دیا ہے۔ بھول جاؤں میں سب۔ ” اس کا جسم لرزنے لگا۔ “میں جانتا ہوں۔ ” وہ کمزور لہجے میں بولا۔ “کچھ نہیں جانتے آپ۔” وہ ہاتھ اٹھا کر تیز لہجے میں بولی “کچھ بھی نہیں جانتے آپ اور آپ کو جاننے کی ضرورت بھی نہیں۔ نہ تھی نہ ہے۔ کیا رشتہ ہے آپ کا مجھ ہے۔ کاغذ پر لکھنے چند لفظوں کا ، آپ پانچ سالوں سے بھلائے بیٹھے ہیں اور میں نے۔ میں نے ان بے جان لفظوں کی کیا قیمت چکائی ہے۔ آپ بھی نہیں جان سکیں گے۔” اس کی آنکھوں میں نمی اتر نے لگی۔ “سوری، سوری۔ وہ چینی سوری فارواٹ ؟ مسٹر مغیث ۔ آپ کو معلوم ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں۔“ اس کا” نفس تیز تیز چلنے لگا۔ “کیا آپ کا یہ سوری میری پاک دامنی کا اعلان کر سکتا ہے۔ اس تاریک رات نے جو سیاہی میرے چہرے ‘ پر ملی ہے اسے دھو سکتا ہے۔ میرے آنسوؤں کا ازالہ کر سکتا ہے، میرے دکھ کا اندازہ کر سکتا ہے اور جتنی اذیت میں نے سہی ہے اس کی ( تلافی) کر سکتا ہے۔ بتائیں مجھے” وہ رکی۔ “نہیں مغیث صاحب ! مجھے آپ کی سوری کی ضرورت نہیں اور آپ کی بھی نہیں جہاں میں اتنے برس آپ” ” کے بغیر گزار سکتی ہوں، باقی کی زندگی بھی گزار سکتی ہوں۔ چلے جائیں آپ یہاں۔ آنسو سے کمزور کرنے لگے تھے۔ وہ رخ پھیر کر کھڑی ہو گئی۔