Sitamgar by Nawal Ahmad
By Aesthetic Novels

Sitamgar by Nawal Ahmad

Views: 20

Genre: Forced Marriage-Based, After Marriage, Rude Hero, Romantic Happy Ending

“کون ہے وہ شخص جس کے ساتھ گھومتی پھرتی ہو۔”الفاظ تھے یا تیر جو وہ اس کے اندر اتار رہا تھا۔وہ بمشکل غصہ کنٹرول کرکے بولی۔
“آپ کون ہوتے ہیں مجھ سے سوال جواب کرنے والے اور میں جس مرضی کے ساتھ پھروں آپ کو مسئلہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔

its none of your business.”
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔بیوی ہو تم میری اور میں تم سے پوچھنے کا پورا حق رکھتا ہوں۔”اس کی بات نے اس کو آگ لگادی تھی۔
“بہت جلدی یاد آگیا کہ آپ کی بیوی بھی ہے۔ان فیکٹ منکوحہ۔۔۔۔پانچ سال تو یاد نہ رہا۔”وہ ضبط کے انتہا پار کرچکی تھی۔پانچ سال کس صبف سے اس نے گزارے تھے۔یہ وہ جانتی تھی کہ اسے مہک کے ساتھ دیکھ کر ایمان کو تکلیف نہیں ہوتی تھی۔؟اپنا بازو چھڑاتی وہ دور ہوئی اور ڈوپٹہ درست کرکے پھیلالیا۔
“ہاں آئندہ میں تمہیں اس شخص کے ساتھ ہر گز نہ دیکھوں۔”انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتا وہ شدید غصے میں تھا۔
“کیوں مانوں میں آپ کی بات اور اپنا حق جاکر اس مہک پہ جتائیں۔کچھ نہیں لگتی میں آپ کی اور نہ آپ مجھ پہ حق جماسکتے ہیں۔”اسے تو سوچ سوچ کر غصہ آرہا تھا کہ وہ اس پر شک کررہا ہے جبکہ ڈاکٹر ارسلان اس کیلیے ایک کولیگ سے ذیادہ کچھ نہ تھے۔
“فکر نہ کرو مہک پہ بھی حق جتاؤں گا لیکن اس تب جب اس نکاح کا پھندا میری گردن سے آزاد ہوگا۔بہتر ہے کہ تم اس شادی سے انکار کردو ورنہ مہک سے تو میں ہر صورت شادی کروں گا بےشک تم میری زندگی میں ہو یا نہ ہو۔”کتنا ظالم تھا وہ اسے زرا ترس نہیں آیا تھا کس قدر سفاکی سے وہ اس پانچ سالہ رشتے کو ختم کرنے کی بات کررہا تھا۔

”جس جگہ تم بیٹھی تھی نا یہ تمہارے لیے نہیں تھی یہاں پر
میں نے ہمیشہ مہک  کو ہی دیکھا اور محسوس کیا صرف اور صرف
تمہاری وجہ سے میں نے اپنی محبت  کو کھو دیا۔چلی جاؤ یہاں سے
نفرت ہے مجھے تم سے تمہاری وجود سے سخت نفرت۔“
وہ چیخ پڑا تو ایمان تیزی سے ڈریسنگ میں گھس گئی۔گھنٹے کے بعد جب
وہ باہر نکلی تو وہ کمرے میں نہ تھا اس کے الفاظ تھے یا کوڑے اسے
ذرا خیال نہ آیا کہ پہلی رات ہی اس نے اسےاسکی اہمیت جتا دی ۔
ایمان کا وجود اس کی زندگی میں زبردستی تھوپی ہوئی چیز سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔
”میں نے ہمیشہ مہک کو اس جگہ دیکھا ہے اور محسوس کیا ہے۔“کتنی ضرب دی
تھی اس نے کشن میں منہ چھپا کر وہ سسک سسک کر رو دی ۔

  • No Comments
  • February 26, 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *