Tera Hone Laga Hun By Qamrosh Ashok
By Aesthetic Novels

Tera Hone Laga Hun By Qamrosh Ashok

Views: 7

Tera Hone Laga Hun By Qamrosh Ashok

Genre: Romantic Drama, Melodrama, Emotional / Revenge Thriller

رومانوی ڈرامہ (Romantic Drama)
کیونکہ کہانی میں ازدواجی تعلق، بے وفائی، جذباتی کشمکش اور رشتوں کی پیچیدگی نمایاں ہے
میلُو ڈرامہ (Melodrama)
شدید جذبات، چیخ و پکار، دھمکیاں، جسمانی تصادم اور انتقامی لہجہ —
انتقامی/جذباتی تھرلر (Emotional / Revenge Thriller)
ازدواجی بے وفائی
مردانہ غیرت اور ملکیت کا احساس
عورت کی مجبوری اور سماجی دباؤ

تیری اتنی ہمت کہ تو میرا اگر بیان پکڑتا ہے ۔ سرمد علی تو اکبر خان سے زیادہ طیش میں آگیا تھا ایک ہی جست میں اس سے اپنا گر بیان چھڑا کے اکبر خان کو اتنی زور سے دھکا دیا تھا کہ وہ پیچھے پڑی شیشے کی میزسےٹکراتا قالین پر جا گرا تھا، دونوں کے انداز میں اژدھوں جیسی پھنکار تھی، اس افتاد کے لئے سائرہ تو بالکل تیار نہیں تھی مگر ہاں اگر ان دونوں کا بیچ بچاؤ نہ ہوتا تو یقینا یہاں زبر دست خون خرابہ ہو سکتا تھا، یقینا دونوں میں سے آج کوئی نہ کوئی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا’ سائرہ نے فورا سے بیشتر روتی بلکتی کاشی کو بیڈ پر ڈالا اور غیض و غضب سے بھڑکتے سرمد علی کی راہ میں حائل ہوئی ۔
سرمدصاحب میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں پلیز آپ یہاں سے چلے جائیے آپ کو اپنی نئی زندگی کی شروعات کی بہت بہت مبارک ہو جائیے اپنی نئی بیوی کے ساتھ خوشیاں سمیٹے اور پلیز میرا پیچھا چھوڑ دیئے۔
بدذات عورت سرمدعلی کو سائرہ کی اکبر خان کی یوں حمایت لیتا اس طرح اس کو بچانا صحیح معنوں میں آگ لگا گیا تھا، جسم کا ایک ایک عضو کھول اُٹھا تھاغصے سےجو کہ اس نے ضبط نہیں کیا تھا سائرہ کے بالوں کا گچھا ہ اتنی بری طرح مٹھی میں دبوچا تھا کہ دو درد سے بلبلا اٹھی تھی۔
تو ہوتی کون ہے مجھے یہاں سے چلے جانے کو کہنے والی بد چلن آوارہ بیوی میری ہے اور راتیں اس کے ساتھ گزار رہی ہے میرا بس چلے تو ابھی تجھے زندہ زمین میں گاڑھ دوں
تو گاڑھ دیجئے تاکہ آپ کو سکون تو ہے”
ہو نہہ ۔۔ اتنی آسان موت نہیں تو نے مجھ سے سرمد علی سے بے وفائی کی ہے اس کی سزا تو تجھے میں ضرور دوں گا ایسے تڑپا تڑپا کے ماروں گا کہ موت کی بھیک بھی مانگے گی مجھ سے تو بھی نہیں ملے گی صرف دو دن دو دن اور اپنی مرضی سے جی لے اور سانسیں لے لے ۔۔پھر دو دن بعد میں کیا کرتا ہوں تیرے ساتھ وہ تو تو سوچ بھی نہیں سکتی۔
سرمدعلی اپنی زبان کو لگام دو ایسانہ ہوکہ بعد میں پچھتانا پڑ جائے بہت شوق ہے نہ جنہیں یہ جاننے کا کہ ہمارے درمیان ایسا کیا ہے تو سنو۔۔۔۔
نہیں نہیں اکبر بھائی ! آپ کو میری قسم پلیز کچھ مت بولیے آگئے۔۔ میں چاہتی ہوں کہ یہ تمام عمر اسی آگ میں سلگتے رہیں۔

⬇ Download File

  • No Comments
  • February 14, 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *