Mere Mehrmah By Noor Bano
By Aesthetic Novels

Mere Mehrmah By Noor Bano

Mere Mehrmah Arranged Marriage-Based Novel By Noor Bano


Genre: Arranged Marriage, Cousin Marriage, Small Town Girl, Business Tycoon Boy, Love Triangle
Status: Complete

 

Novel Description

میرے مہرماہ نور بانو کا ایک جذباتی اور رومانوی ناول ہے جس کی کہانی میر آہل اور دل آویز کے گرد گھومتی ہے۔ میر آہل انگلینڈ میں مقیم ایک کامیاب بزنس ٹائیکون ہے جبکہ دل آویز ایک سادہ اور خوددار گاؤں کی لڑکی ہے۔ دونوں کی دنیا بالکل مختلف ہے، مگر قسمت انہیں ایک ایسے رشتے میں باندھ دیتی ہے جہاں محبت آہستہ آہستہ اپنے راستے بناتی ہے۔ دوسری جانب ایک پرانی حویلی میں چھپے راز اور مکینوں کے ماضی کے زخم کہانی کو مزید پراسرار بنا دیتے ہیں۔ یہ ناول محبت، خودداری، خاندانی رشتوں، قربانی اور ماضی کے رازوں کا خوبصورت امتزاج ہے۔

Mere Mehrmah by Noor Bano is an emotional arranged-marriage-based Urdu novel featuring Meir Ahl, a successful business tycoon living in England, and Dilawez, a simple yet self-respecting village girl. Despite coming from completely different backgrounds, destiny brings them into a relationship neither of them expected. As their bond slowly develops, they face emotional struggles, family complications, and the challenge of accepting a love that was never part of their plans.

Adding mystery to the romance is an old mansion filled with buried secrets, painful memories, and stories from the past that continue to affect its residents. With themes of arranged marriage, cousin marriage, love triangle, self-respect, sacrifice, family bonds, and unexpected love, Mere Mehrmah offers readers a heartfelt story where romance and mystery come together.

 

Website Description

Aesthetic Novels Online is a place for readers who love beautifully written Urdu stories, meaningful characters, deep emotions, and captivating storytelling. Our goal is to bring together a wide collection of Aesthetic Urdu Novels in one easy-to-use platform, so you can discover new stories and enjoy your favorite novels whenever you want. From romance and emotional stories to suspense, family dramas, social themes, and other engaging genres, we aim to provide quality Urdu novels for every kind of reader. Each story is selected with the intention of giving you an enjoyable and immersive reading experience—whether you are looking for a light romantic read or a story that stays in your heart long after you finish it.

You can read novels online anytime, anywhere, and for selected titles, download them in PDF format for convenient offline reading. We also love discovering fresh voices and giving talented writers a space where their stories and creativity can reach more readers.At Aesthetic Novels Online, we believe a good story is more than just words on a page—it can make you smile, bring tears to your eyes, and leave you thinking about its characters long after the final chapter.

Explore, read, and discover your next favorite Urdu novel with us. ❤️

 

” نکلو میرے کمرے سے” یہ کہتے ہوئے میر آہل نے ہینڈل نیچے کیا ہی تھا کہ اُسے زور کا جھٹکا لگا۔ کسی نے کمرے کا دروازہ باہر سے بند کردیا تھا۔ اُس نے یقین دیہانی کرنے کے لئے ہینڈل کو سختی سے ایک بار پھر نیچے کیا مگر دروازہ نہیں کُھلا۔اُس نے دانت پیستے ہوئے دروازے کو زور سے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور مُٹھی بھنجتے ہوئے ریما کو خون رنگ آنکھوں سے دیکھا۔” بتاؤں کس مقصد سے آئی تھی یہاں تم ” وہ غصے سے چلایا تھا۔” و ۔۔۔ و۔۔وہ میں ” ریما ڈر کے مارے دو قدم پیچھے ہٹی۔دروازے کے پیچھے سے دبی دبی سی آوازیں ابھریں ۔۔۔ کسی نے ہینڈل نیچے کیا اور ہلکی سی چرچراہٹ کے ساتھ دروازہ کُھلا۔” آئے میر صاحب آپ کو میری بات کا تو اعتبار نہیں تھا نہ تو اب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اپنے پیارے بھتیجے کے کرتوت” زلیخا دندناتے ہوئے کمرے میں ایسے داخل ہوئیں جیسے پولیس چور کو پکڑنے کے لئے پوری تیاری کے ساتھ چھاپا مارتی ہے۔” آپ بھی آنکھ کھول کر دیکھ لیں بی جان آپ کا پوتا شادی تو دل آویز سے کر رہا ہے مگر رات کے اس پہر میری بیٹی کو بھی ورغلا رہا ہے” زلیخا نے کینہ توز نظروں سے بی جان کو دیکھا اور پھر ایک نظر پیچھے کھڑی دل آویز (جو مسلسل ڈوپٹے کے کونے کو مڑوڑ رہی تھی) کو دیکھا اور شیطانی سا مسکرائیں۔” اور آپ سب چوروں کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں مگر میر صاحب اتنا یاد رکھیں کہ میں اپنی بیٹی کو اس طرح رُسوا نہیں ہونے دوں گی” بس لمحے لگے تھے بی جان، میر خلیل اور میر آہل کو زلیخا کے ارادے سمجھنے میں میر آہل جو کھنچے ہوئے تاثرات لئے کھڑا تھا یکدم ڈھیلا پڑا اور بے نیازی سے کان کی لو مسلی۔” تو آپ کیا چاہتی ہیں ؟” میر خلیل نے پرسکون انداز میں زلیخا سے استفسار کیا۔میر آہل نے آئی بروز اچکائیں ۔۔۔ بی جان نے بھی رُخ موڑ کر میر خلیل کے چہرے کو ٹٹولا مگر وہاں ایک نرم سا تاسر تھا۔” میں ۔۔۔ میر صاحب میں ایک ماں ہونے کی حیثیت سے یہ چاہتی ہوں کہ جو داغ ( نظر موڑ کر میر آہل کو دیکھا جو اب بلکل شانت اور بے نیاز سا نظر آرہا تھا ) آپ کے بھتیجے نے میری بیٹی پر لگایا ہے اُسے صاف بھی یہی کرے” ڈوپٹے کے پللُو سے آنکھ کے کنارے کو رگڑتے ہوئے انہوں نے مظلومیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے تھے۔” داغ؟ “” how dramatic …. Huhh “ناخُن سے ٹھوڑی کھجاتے ہوئے آہل نے دل ہی دل میں سوچا تھا۔” ہمممم” میر خلیل نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گہری سانس لی اور زلیخا کا سر سے لیکر پاؤں تک جائزہ لیا۔” سہی کہہ رہی ہیں آپ زلیخا غلطی کی ہے تو خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا” یہ سن کر زلیخا کے چہرے پر ایک دم فاتحانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ریما نے حیرت سے باری باری زلیخا اور پھر میر خلیل کو دیکھا۔ دل آویز کی گرفت ڈوپٹے پر مزید گہری ہوئی اور بی جان ناسمجھی سے میر خلیل کو دیکھنے لگیں جیسے اپنی سماعتوں پر یقین نا آیا ہو۔خاموش کمرے میں اچانک ” ٹھاں” کی زور دار آواز گونجی اور ہر شے لمحے میں ویران ہو گئی۔سب نے بے یقینی سے پہلے میر خلیل کو دیکھا جن کے تاثرات اب برفیلے ہوچُکے تھے۔ زلیخا نے سِسکتے ہوئے اپنے سُرخ ٹمٹماتے ہوئے گال پر ہاتھ رکھا جہاں میر خلیل کی انگلیوں کے نشان ثبت ہو چُکے تھے۔بی جان نے ایک گہری سانس اندر کی جانب کھینچی جیسے درد میں اچانک کرار آگیا ہو۔” Wow ! What a shot “میر آہل نے ہونٹ دباتے ہوئے گردن مسلی جیسے چہرے پر آئی مسکراہٹ دبانے کی کوشش کر رہا ہو۔یہ تھپڑ کچھ سال پہلے مارا ہوتا تو آج حالات کچھ مختلف ہوتے۔ شادی والا گھر ہے۔ گھر مہمانوں سے بھرا پڑا ہے اور آپ…؟ انہوں نے شرمندگی سے الفاظ ادھورے چھوڑ دئیے اور ایک ملامتی نظر زلیخا پر ڈالتے ہوئے کمرے سے فوراً باہر نکل گئے۔زلیخا نے ندامت سے نظریں نیچے جھکاتے ہوئے چہرے پر بہتے آنسوؤں کو صاف کیا اور بنا کچھ کہے وہاں سے خاموشی سے چلی گئیں۔ سارا پلین چوپٹ ہوگیا تھا اور بیٹی کی رسوائی الگ۔انہوں نے تو میر خلیل کی سہی رگ دبائی تھی پھر ایسا کیا تھا جو اس کا نشانہ چُوک گیا تھا۔ اب وہ کیسے گھر میں کسی سے نظریں ملاتی۔” تمہیں الگ سے انویٹیشن دینا پڑے گا؟ ” میر آہل نے ریما کو گھورتے ہوئے کہا تو ریما بھی فوراً کمرے سے نو دو گیارہ ہوگئ۔میر آہل نے رُخ بی جان کی جانب موڑا تو نظریں پھسل کر پیچھے دروازے پر کھڑی خاموش اور سہمی ہوئی لڑکی سے ٹکرائیں۔دل آویز نے فوراً نظریں نیچے کی اور وہاں سے چلی گئی۔ اس خاموش کمرے میں اب بی جان اور میر آہل کے سوا دل آویز کی مہندی کی خوشبو باقی رہہ گئی تھی۔” آہل پُتر مجھے تجھ سے کچھ بات کرنی ہے ” بی جان نے کندھے سے تھامتے ہوئے کہا۔

 

Click Below and Download Novel in Pdf

 

Read Online

 

ناول پڑھنے کے بعد لازمی بتائیں آپ کو ناول کیسا لگا ۔ شکریہ

  • No Comments
  • January 25, 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *