Dil Hara By Zeenia Sharjeel ano2009
By Aesthetic Novels

Dil Hara By Zeenia Sharjeel ano2009

Views: 37

Dil Hara By Zeenia Sharjeel

Book Name: Dil Hara
Author Name: Zeenia Sharjeel
Genre: Most Romantic Novel, Cousin Marriage Based, Wani Based, Haveli Based, Khoon Baha Based, Bold Romantic Novel
Status: Complete

“اچھا ذرا آج معلوم ہو جائے میری بیوی اپنے سائیں سے کتنی محبت کرتی ہے”
ضیغم نے اپنے سینے پر رکھا ہوا روشانے کا ہاتھ ہونٹوں سے لگانے کے بعد اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے پوچھا جس پر روشانے مسکرا دی۔۔۔
ضیغم روشانے کو بیڈ پر لٹاتا ہوا غور سے اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو اپنے دل میں اتار رہا تھا، اس کی نظروں کی تپش سے روشانے کی پلکیں خود بخود جھگ گئی جس پر ضیغم ہلکا سا مسکرایا
“اس طرح شرمانے سے کام نہیں چلے گا محبت کا ثبوت محبت سے ہی دینا پڑے گا آج”
ضیغم اس کے شرمائے ہوئے روپ کو دیکھ کر بولا۔۔۔ تین دن سے اُس نے اپنے اور روشانے کے درمیان دوریاں پیدا کی ہوئی تھی مگر آج وہ اِن دوریوں کو نزدیکیوں میں ڈھالنا چاہتا تھا۔۔۔
“سائیں جو محبت کا ثبوت آپ مجھ سے مانگ رہے ہیں، اس کا مظاہرہ آپ ہی اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں یہ آپ خود جانتے ہیں”
بات مکمل کر کے روشانے اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی ضیغم ایک بار پھر مسکرایا۔۔۔
روشانے کے گلے میں موجود چین کو دیکھ کر ضیغم اس کی گردن پر جھکا تو روشانے نے بے اختیار اس کا کندھا پکڑا۔۔۔ ضیغم روشانے کا ہاتھ احتیاط سے تکیے پر رکھتا ہوا، اپنا ہاتھ اس کے گال پر رکھ کر اُس کے ہونٹوں پر محبت کی مہر ثبت کرنے لگا۔۔۔ چند سیکنڈ یونہی معنیٰ خیز خاموشی گزرے اس سے پہلے جذبات کا طوفان شور مچاتا کمرے میں مکمل اندھیرا چھا گیا۔۔۔

تو کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں”
ضیغم روشانے سے پوچھتا ہوا اُس کی کمر سے اپنا ہاتھ بالوں میں لے جاتا ہوا، بالوں سے کلپ نکالنے لگا
“میرا وہ مطلب بھی نہیں تھا۔۔ مجھے صبح کالج جانے کے لیے کپڑے پریس کرنے ہیں”
روشانے ضیغم کی حرکت پر اور اس کی بہکی بہکی نگاہوں سے ایک دم گھبرا گئی تھی تبھی وہ ضیغم کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی
“تو پھر کیا مطلب تھا، واضح کرو، پھر کوئی دوسرا کام کرنا”
وہ روشانے کا دوپٹہ ایک طرف رکھنے کے بعد اس کے ہونٹوں کو دیکھ کر پوچھنے لگا جو اس کی پیاس بڑھا رہے تھے۔۔۔ ساتھ ہی اس نے باہوں کا حصار روشانے کے گرد مزید تنگ کر دیا۔۔۔ اس لیے روشانے اب خاموشی سے ضیغم کی نظروں کو دیکھنے لگی جو اس کے ہونٹوں پر تھی۔۔۔
ضیغم اُس کے ہونٹوں کو دیکھتا ہوا اپنے ہاتھ روشانے کی کمر سے ہٹا کر اس کا چہرہ تھام چکا تھا۔۔۔ ضیغم کو اپنے ہونٹوں پر جھگتا دیکھ کر روشانے اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی۔ ۔۔ پیاس بجھانے کے چکر میں ضیغم کی طلب مزید بڑھتی چلی گئی
“سائیں پلیز”
روشانے اسکا حصار توڑتی ہوئی بوجھل سانسوں کے ساتھ بولی اور کمرے سے جانے کے لیے مڑنے لگی مگر سامنے دیوار تھی
ضیغم اسکو دونوں کندھوں سے تھام کر اسکے بالوں کو چومنے لگا۔۔ روشانے دیوار پر اپنا ہاتھ رکھتی ہوئی اپنی سانس بحال کرنے لگی۔،۔ ضیغم اُس کے بالوں کو کمر سے ہٹا کر دائیں کندھے سے آگے کرتا ہوا اس کے بائیں کندھے پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا، روشانے ایک بار پھر ضیغم کے حصار میں تھی مگر اس کا رخ ابھی بھی دیوار کی طرف تھا۔۔۔ روشانے ضیغم کے انداز پر بے ہوش ہونے کے قریب تھی،، تب اُس نے سے ضیغم کے ہاتھوں کا بندھا ہوا حصار ایک بار پھر توڑنا چاہا
“یہ تو غلط بات ہے اپنی باتیں تو خوب منتیں کر کے منوا لیتی ہو اور اب جب میری باری ہے تو ایسے کررہی ہو”
روشانے کو ہلکی پھلکی مزاحمت کرتے دیکھ کر ضیغم شکایتی انداز میں بولا،
روشانے پلٹ کر ضیغم کو دیکھنے لگی اسے ڈر تھا کہیں ضیغم اس سے خفا نہ ہو جائے اس لیے روشانے خود سے، ضیغم کے سینے میں اپنا چہرہ چھپاتی ہوئی بغیر کچھ بولے اپنی آمادگی کا اظہار کرنے لگی۔۔۔ روشانے کے انداز پر ضیغم اُسے ایک بار پھر اپنے حصار میں لیتا ہوا مسکرای

تیمور خان چلتا ہوا روشانے کے پاس پہنچا اور زور دار تھپڑ روشانے کے گال پر رسید کیا جس سے وہ اوندھے منہ فرش پر جا گری
“خبردار جو تم نے اس پر ہاتھ اٹھایا” شمروز جتوئی بلند آواز سے تیمور خان سے بولا جبکہ روشانے گال ہر ہاتھ رکھے خوف کے مارے کانپنے لگی۔۔۔ تیمور خان نے گن مین کو اشارہ کیا اس نے اپنی گٙن شمروز جتوئی کے سینے پر رکھ دی
“اگر اب اسکی آواز نکلے تو اُڑا دینا اسے”
تیمور خان گن مین کو بولتا ہوا دوبارہ روشانے کی طرف بڑھا
ڈر کے مارے روشانے نے زمین سے اٹھنے کی زحمت نہیں کی تھی۔۔۔ تیمور خان مٹھی میں اُس کے بالوں کو پکڑ کر اُسے اٹھانے لگا
“خان پلیز نہیں” روشانے تیمور کی کلائی پکڑ کر ڈرتی ہوئی اُس سے بولی
“یہاں نہیں تُجھے تو میں گھر جاکر بتاؤ گا، چل”
تیمور خان غُصے میں سرخ آنکھوں سے روشانے کو دیکھ کر کہتا ہوا اُس کے بالوں
کو مٹھی سے آزاد کر کے،، اس کا بازو کھینچتا ہوا گھر سے باہر نکلنے لگا
“چٹاخ۔ ۔۔۔ چٹاخ۔ ۔۔۔ چٹاخ۔ ۔۔۔ دو راتوں سے موجیں کر رہی تھی شمروز جتوئی کے بھتیجے کے ساتھ،، بول کیا کیا اُس کمینے نے تیرے ساتھ۔۔۔ چھوئے بغیر تو تجھے نہیں چھوڑوں گا اُس نے”
کمرہ بند کر کے منہ پر تھپڑ مارنے کے بعد فرش پر گری ہوئی روشانے کو وہ لاتوں سے مارتا ہوا اپنے ذہن میں بھرا ہوا گند اس پر انڈیل رہا تھا۔۔۔ روشانے اپنی بےگناہ ہونے کی قسم کھاتی ہوئی اُس سے معافی مانگ رہی تھی
“تیمور چھوڑ دے اسکو، وہ بےقصور ہے میرے کہنے پر وہ بدنصیب وہاں رک گئی تھی، مت کر اُس پر ظلم، میں معاف نہیں کرو گی تجھے”
دوسری طرف کھڑکی سے کمرے میں جھانکتی ہوئی زرین اپنے بیٹے کی درندگی دیکھ کر چیخ چیخ کر اسے کوس رہی تھی

“مجھ سے اپنے بچے کا ثبوت مت مانگیے گا سائیں، ورنہ میں مر جاؤں گی”
وہ تڑپ کر اپنے شوہر کو دیکھتی ہوئی بولی تھی جو کہ پہلے ہی اُس سے خفا ہوکر اُسے اکیلا حویلی میں چھوڑ کر چلا گیا تھا
“تم نے اِسے میسج کرکے یہاں بلایا تھا یا نہیں”
وہ اپنی بیوی کو دیکھ کر سوال اٹھانے لگا تو اُس کی بیوی نے اپنا لرزتا ہوا ہاتھ اپنے شوہر کے سر پر رکھا
“آپ کی قسم کھا کر کہتی ہوں میں نے اِسے کوئی میسج نہیں کیا تھا”
اُس کے قسم کھانے پر اس کا ہاتھ بری طرح اپنے سر سے جھٹک دیا گیا
“دو دن پہلے بھی تم نے میرے سر کی قسم کھائی تھی،، وہ قسم سچی تھی یا جھوٹی تھی،، سچ سچ بتانا مجھے”
بے انتہا سنجیدگی سے اُس نے اپنی بیوی سے پوچھا جو اپنے شوہر کی بات سن کر ایک پل کے لیے خاموش ہوگئی حویلی میں موجود تمام نفوس کی نظریں اس وقت ان دونوں پر ٹکی تھی
“اگر میں آپ کو اس وقت پورا سچ بتا دیتی تو آپ مجھ سے خفا ہوجاتے مگر وہ بھی پورا سچ نہیں تھا سائیں۔۔۔ میں آپ کو اصل حقیقت۔۔۔”
اُس نے بولنا چاہا تب اُس کے شوہر نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید کچھ کہنے سے روکا
“تم نے میری ناراضگی کے ڈر سے میری جھوٹی قسم کھائی یعنی اُس دن بھی یہ تم سے ملنے آیا تھا جو کچھ تمہارے بارے میں بولا گیا وہ سچ تھا۔۔ تو میں آج تمہاری قسم پر کیسے یقین کر لوں”
وہ غضب ناک نظروں سے اپنی بیوی کو دیکھتا ہوا بولا اس کی آنکھوں میں اپنے لیے بے اعتباری دیکھ کر وہ تڑپ اٹھی تھا

Click Below and Download Novel in Pdf

Download

Download File

⬇ Download Now

Read Online

ناول پڑھنے کے بعد لازمی بتائیں آپ کو ناول کیسا لگا ۔ شکریہ

  • No Comments
  • February 11, 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *