Shah E Man By Yaman Eva ano2010
By Aesthetic Novels

Shah E Man By Yaman Eva ano2010

Views: 15

Shah E Man By Yaman Eva

Book Name: Shah E Man
Author Name: Yaman Eva
Genre: Love Marriage-Based, Foreign Hero, Rich Boy, Pakistani Ordinary Girl, Accidentally Married Based
Status: Complete

زایان سنجیدہ سا آ کر ایک چئیر پر بیٹھا اور سامنے ٹیبل پر رزلٹس کے ریکارڈ اور ٹیچرز کا بائیو ڈیٹا تھا۔۔
ہالہ کے پسینے چھوٹ گئے۔۔ یہ؟ یہاں؟ اب اس کے ساتھ کیا کرے گا وہ؟ اب تو سارے بدلے لے گا، وہ بابا کے منع کرنے پر ہی رک جاتی اور اس سکول کو جوائن نا کرتی۔۔ تو آج زلیل ہونے سے بچ جاتی کیونکہ یہاں سب سے کم عمر اور کم تعلیم اسی کی تھی۔۔ وہ ابھی سٹوڈنٹ تھی اور یہ جاب کر رہی تھی۔۔ اسے اندازہ ہوگیا سب سے زیادہ اسی کی کلاس لی جائے گی۔۔
وہ پتہ نہیں کیا بول رہا تھا اسے سنائی نہیں دیا۔۔ اب وہ اس کا نام لے رہا تھا وہ غائب دماغی سے اسے تک رہی تھی۔۔
” مس ہالہ خادم۔۔ “ زایان نے جواب نا ملنے پر کچھ سختی سے کہتے سب کی طرف نظر گھمائی۔۔ اور پھر اس کی نظر اس پر پڑی۔
سیاہ چادر اور نقاب میں گرین شیڈ دیتی گرے آنکھیں جو اسی پر جمی تھیں۔۔ وہ بری طرح چونکا۔۔ فارس کی کزن؟ یہاں؟
ساتھی ٹیچر نے اس کی غائب دماغی پر اسے ٹہوکا مارا۔۔ مانا کہ لڑکا بلا کا ہینڈسم ہے پر ایسی بھی کیا بے اختیاری مس ہالہ۔۔ وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔۔
”سر م۔۔مجھے یہ جاب قابلیت پر ملی ہے۔۔ بہتر ہو گا آپ میری ایجوکیشن کی بجائے میرا رزلٹ دیکھیں۔۔“ وہ سنجیدہ با اعتماد لہجے میں بولی۔۔ زایان کو اس کی آنکھوں میں التجا صاف نظر آئی تھی مگر اس نے ہالہ کے کیے دعوے پر عمل کرتے ہوئے اسے اجنبیت سے دیکھا۔۔
”تو مس ہالہ آپ کے اس اعتماد کی وجہ سے آپ کو کیا لگتا ہے آپ اس جاب کے لیے صحیح ہیں۔۔؟ آپ انہیں پڑھا سکتی ہیں تو کیا آپ کو یہ جاب دے دی جائے گی؟۔۔ نہیں اگر تعلیم کو چھوڑ کر صرف قابلیت پر جاب دی جانے لگے تو پڑھ لیا بچوں نے۔۔“ وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔
ہالہ نے بولنا چاہا پر میم کے چپ رہنے کے اشارے پر بے چارگی سے سر جھکا گئی۔
”سر آپ ٹرائل پر ان ٹیچرز کو رہنے دیں۔۔ اور اگر رزلٹ آپ کے مطابق نا آئے تو ہم۔۔ “ ہیڈ نے اپنی رائے پیش کرنا چاہی۔۔
”بچوں کا آدھا سال آپ لوگ ٹیچرز کے ٹرائل پر ضائع کر دیتے ہیں تو پھر یہی رزلٹ آئے گا ناں۔۔“ ہالہ بے بسی سے لب کچلنے لگی۔۔
”اب تو دکھائے گا نخرے۔۔ موقع جو مل گیا بدلہ لینے کا۔۔“ ہالہ بڑبڑائی۔۔ وہ سب کو چھوڑ کر بس اسی کو پکڑ بیٹھا تھا۔۔
”مجھے کم تعلیم والی ٹیچرز سے ایک ہی جواب پوچھنا ہے کہ یہاں جاب کرنے کی کیا وجہ ہے وہ بھی تعلیم مکمل کیے بنا؟ “ زایان نے سنجیدہ نظر ہالہ پر ڈالتے سب ٹیچرز کو دیکھا۔
ہالہ لب بھینچے سر ڈالے بیٹھی تھی۔۔
یہ نا اس کا شوق تھا نا مجبوری۔۔ وہ بس فارغ رہ رہ کر تھک چکی تھی تو یہاں آگئی مگر اُس سامنے بیٹھے سر پھرے سے کیا کہے۔۔؟
زایان نے خاموش بیٹھی ضدی لڑکی کو ایک نظر دیکھا اور پھر آس بھری نظروں سے خود کو تکتی باقی ٹیچرز کو۔۔
”میں ایک ہفتہ کے بعد آپ کی کلاسز کا ٹیسٹ لے کر رزلٹ دیکھوں گا۔۔ اب تک جتنا بھی پڑھایا ہے وہ سب ٹیسٹ میں شامل ہو گا جس ٹیچر کا رزلٹ صحیح نا ہوا وہ بنا بحث کیے یہاں سے چلی جائے گی۔۔“ زایان نے اپنا فیصلہ سنایا اور اٹھ کھڑا ایک کٹیلی نظر بدستور سر جھکائے بیٹھی ہالہ پر ڈالی اور باہر نکل گیا۔
ہالہ نے اس کے جاتے ہی پرسکون سانس لیا، کچھ ہی وقت کے بعد جب وہ کلاس میں داخل ہو رہی تھی اس کے موبائل پر میسج ملا۔۔
”تم خود کو اس جاب سے فارغ ہی سمجھو۔۔۔ بچوں کے لیے ویل مینرڈ اور ویل ایجوکیٹڈ ٹیچر ضروری ہوتی ہے اور تم میں دونوں کی کمی ہے۔۔“ میسج پڑھ کر ہالہ نے دانت پیسے۔
”نکال کر تو دکھائے زرا۔۔ بڑا آیا نواب زادہ ہونہہ۔۔“ وہ دانت پیستی بڑبڑائی۔

Click Below and Download Novel in Pdf

Download

Download File

⬇ Download Now

Read Online

ناول پڑھنے کے بعد لازمی بتائیں آپ کو ناول کیسا لگا۔ شکریہ

  • No Comments
  • February 25, 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *