Hijer K Sehra Main By Humera Nigah
By Aesthetic Novels

Hijer K Sehra Main By Humera Nigah

Views: 27

Genre: After Nikkah Based, Rude Hero, Haveli Based, Forced Marriage Based, Raped Based

Hero Hamaish Khan or heroin Gull Zarrein dono czn hn😍joint family hai.hero nd heroin ki apas mai bilkul nhi bnti heroin university admission lena chahti hai Agha jan heroin ko hero se nikah k bad uni admission ki ijazat detay…..University mai aik girl Maryam ki hero se friendship ko le kr dono mai misunderstanding hojati.hero 8 saal pehlay ghr chor k ja chuka hai heroin ki aik beti hai🙂our puri family mai heroin ka character mashkook hai

اچھا اب راتوں کو چھپ چھپ کر خاتوں کی حویلی میں یہ سب کچھ ہوگا سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر وہ خاموش نہ رہ سکی اس کی آواز سن کر ایک دفعہ تو مریم خان اور ہمیش خان جی جان سے لرز گئے۔
تم راتوں کو چھپ چھپ کر ہماری جاسوسی کر رہی ہو ہمیش مریم کو بیڈ پر بٹھا کر اسکی طرف لپکا۔ “
سچ ہمیشہ کڑوا ہو تاہے ہمیش خان حقیقت آج میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں۔ تم سب کی غیر موجودگی کا ناجائز فائدہ اٹھار ہے ہو”۔ “
پمیش خان کو نائٹ گاؤن اور مریم خان کو بغیر دوپٹے کے بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر اسکی آنکھوں میں لہوا تر آیا تھا۔
تم حقیقت نہیں جانتی گل زریں جاؤ جا کر اپنا کام کرو۔ اس نے جب گل زریں کو جانے کا کہا تو اسکے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ “
اسلئے چلی جاؤں کہ تمہارے لچھن نہ دیکھ سکوں تمہارے کر توتوں سے دو سروں کو آگاہ نہ کر سکوں یا پھر تمہاری ان معانی جانیوالی رنگ رلیوں
پر پردہ ڈال دوں”۔
اسکی الزام تراشیوں پر اسکے دماغ کی رگیں تن گئی تھیں وہ بات کاٹ کر گرجتے ہوئے بولا۔ اسٹاپ اٹ کیا تم اپنے الزام کی وضاحت دینا پسند کروگی ؟ “
وضاحت ہوں جب سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں تو وضاحت کیسی اور الزام کیسا؟ ” وہ عصر سے دھاڑا اور ہاتھ کا نشان اس کے منہ پر چھوڑ گیا۔
دیں ہمیش خان اب میں خاموش نہیں رہ سکتی۔ بہت برداشت کیا ہے میں ہے۔ اب مزید نہیں ۔ اپنے گال پر ہاتھ رکھے وہ کرابی “
دیکھو گل زریں ! تم غلط سمجھ رہی ہو ۔ دراصل لائٹ چلی گئی تھی اور ہمیش خان جانتا تھا کہ مجھے نے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے تو وہ فوراً ” میرے کمرے میں چلا آیا۔ مریم جو کب سے خاموش بیٹھی تھی صفائی دینے کو آگے بڑھی۔
تم اپنے کام سے کام رکھو مجھے سبق پڑھانے کی کوشش نہ کرو۔ اس نے انگلی اٹھا کر اسے متنبہ کیا۔ “
تم بات کو سمجھنے کی کو شش کرو گل زرین!!! خوامخواہ ایک غلط بات کو طویل دے رہی ہو میں تمہیں بتا رہی ہوں تا کہ لائٹ چلے جانے کی وجہ “
وہ گل زری اور ہمیش کے نازک رشتے کا احساس کرتے ہوئے بات کو ختم کرنا چاہ رہی تھی لیکن گل زرین سے اسے ٹوک دیا۔
لاٹ جانے کی وجہ سے وہ تمہیں اپنی روشنی سے نوازنے آگیا مریم خان ببی بتانا چاه ربی بوده تم اور ہمیش خان تم تم نہایت ہی گھٹیا برے “
کردار کے مالک اور گرے ہوئے انسان ہوں۔
شت آب جث شث آب ” – بمیش خان عصر سے دھاڑا اور آگے بڑھ کر اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹتے بولے اسکے کمرے کی طرف چل دیا۔ مریم راستے میں آئی تو ہمیش سے اسے دھکا دے کر نیچے گرایا اور خود گل زریں کو لیکر چل دیا۔
باہر آندھی کا شور تھا بادلوں کی گرج تھی، بجلی کی چمک ، بارش کا زور ایک دل دہلا دینے والا منظر اور اس سے بھی خوفناک منظر اسکا منتظر
تها.
اتنی اچھا ہی نہیں ہے۔ رنگ رلیاں کیسے مناتے ہیں یہ بھی بتاؤں گا اور میرےچھوڑو مجھے “۔ وہ اس سے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اسکی مردانہ گرفت بہت مضبوط تھی۔ “
اتنی جلدی کیسے چھوڑ دوں میری جان ابھی تو تم سے میرا برا بن دیکھا ہی نہیں ہے۔ رنگ رلیاں کیسے مناتے ہیں یہ بھی بتاؤں گا اور میرے لچھن ” وه تو خیر تم جان بی چکی ہو وہ اسے اسکی کہی باتیں لو ٹارہا تھا۔
میں کہتی ہوں چھوڑو مجھے . وہ اسکے جارحانہ عزائم دیکھ چکی تھی اور حقیقی خوفزدہ بھی یورپی تھی۔ اس سے اسے بیڈ پر پڑھا اور اندر سے ” دروازہ لاک کر لیا۔ اسکے چہرے پر خطر ناک عزائم کی سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ آگے جھک کر اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں کی گرفت میں جکڑ لیا وہ بری طرح مچلنے لگی۔ قیامت آئی اور گزر گئی اسکی آه و واویلا اسکے کسی کام نہ آسکا اور وہ کسی ساکت پنچھی کی طرح اسکےسامنے ڈھیر ہوتی چلی گئی۔
گئی اسکا و جو ریزہ ریزہ ہو گیا ۔ اس سے کسی بارے بولے پنچھی کی طرح اپنے وجود کو سمیٹنا چاہا لیکن سے سود……
اسکی ادار اسکی نسوانیت سب کچھ تہہ تیع ہو گیا اسکے پاس کہنے کو کچھ نہ بچا تھا۔ جب اسکی ماں آغا جی اور امان بی گهر واپس آئے تو وہ بحار میں سے شدھ پڑی تھی۔ مریم پاس ہی بیٹی اسکے ماتھے پر پٹیاں بھگو بھگو کر رکھ رہی تھی جبکہ ہمیش خان ڈاکٹر کو چھوڑنے گیا ہو اتھا، وہ سب اسکی ایسی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ آہستہ آہستہ اسکا بخار ٹھیک ہو گیا لیکن وہ یکسر بدل چکی تھی۔ اسکی ضد طنطنہ ضرور کہیں دور جا کر سو گئے تھے۔ وہ گھنٹوں اپنے کمرے میں بند ہو کر بیٹھی رہتی یا پھر باداموں کے باغ میں جا کر کسی ایک نقطے پر نگاہوں کو مرکوز کر لیتی کہ کسی کے جھنجھوڑنے پر اٹھ کر حویلی کی طرف آجاتی اسکی یہ حالت دیکھ کر اس کی ماں اسکی ساس امان بی اور آغا جی گھٹ گھٹ کر جی رہے تھے۔ وہ ہمیش خان اور مریم خان کے سامنے آنے سے کتراتی تھی۔

  • No Comments
  • March 1, 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *