Tumhare Sang Rehna Chahti Hun by Shaheen Sajjad
By Aesthetic Novels

Tumhare Sang Rehna Chahti Hun by Shaheen Sajjad

Views: 8

Genre : Contemporary Romantic Drama with a Love Triangle, Contract Marriage

خیام اور عائلہ ایک دوسرے کو بے حد پسند کرتے تھے، لیکن خیام کے گھر والوں کی ضد تھی کہ وہ پہلے بیرونِ ملک سے اپنی ڈگری مکمل کرے، اس کے بعد ہی شادی ممکن ہوگی۔ دوسری طرف عائلہ کے والد اتنا طویل انتظار کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور چاہتے تھے کہ جلد از جلد اس کی شادی ہو جائے۔
اس مشکل صورتحال میں خیام اپنے قریبی دوست شرجیل کو اس بات پر راضی کرتا ہے کہ وہ عائلہ سے پیپر میرج کر لے، تاکہ وقتی طور پر مسئلہ حل ہو جائے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ عائلہ اور شرجیل کے درمیان سچی محبت پیدا ہو جاتی ہے، اور بالآخر ان دونوں کی زندگی ایک خوشگوار انجام پر پہنچتی ہے۔

خیام اور عائلہ کی محبت کسی ہنگامہ خیز اعلان کی محتاج نہ تھی۔ وہ محبت خاموش بھی تھی اور پُراثر بھی۔ دونوں ایک دوسرے کو دل کی گہرائیوں سے چاہتے تھے، مگر تقدیر نے ان کے راستے میں ایک ایسی آزمائش رکھ دی جس نے ان کے صبر، یقین اور احساسات کو کڑی کسوٹی پر لا کھڑا کیا۔
خیام ایک باصلاحیت اور بلند حوصلہ نوجوان تھا۔ اس کے گھر والوں کی خواہش تھی کہ وہ پہلے بیرونِ ملک جا کر اپنی تعلیم مکمل کرے، ایک مضبوط مستقبل بنائے، اور پھر شادی کے بارے میں سوچے۔ ان کے نزدیک محبت سے زیادہ اہم اس کا کیریئر تھا۔ دوسری طرف عائلہ کے والد ایک روایتی مزاج کے انسان تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ بیٹی کی شادی میں تاخیر مناسب نہیں۔ وہ کسی بھی صورت اپنی بیٹی کو غیر یقینی انتظار کی زنجیر میں جکڑا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔
یوں دونوں خاندانوں کی ضد کے بیچ خیام اور عائلہ کی محبت سانس لینے کو ترسنے لگی۔
راتوں کی بے چینی، دعاؤں میں بھیگتی آنکھیں اور دل میں پلتا خوف — یہ سب ان دونوں کی زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔ خیام جانتا تھا کہ اگر وہ بیرونِ ملک چلا گیا تو عائلہ کے والد شاید اس کی شادی کہیں اور طے کر دیں گے۔ اسی بے بسی کے عالم میں اس کے ذہن میں ایک انوکھا مگر خطرناک خیال آیا۔
اس نے اپنے سب سے قریبی دوست شرجیل کو اعتماد میں لیا۔
شرجیل نہایت سنجیدہ، وفادار اور نرم دل انسان تھا۔ خیام نے اس کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا اور اس سے درخواست کی کہ وہ وقتی طور پر عائلہ سے “پیپر میرج” کر لے، تاکہ عائلہ کے والد مطمئن ہو جائیں اور اسے کچھ وقت مل جائے۔ ابتدا میں شرجیل نے اس تجویز کو سختی سے رد کیا۔ اسے یہ کھیل کسی کی زندگی کے ساتھ مذاق محسوس ہوا۔ مگر خیام کی بے بسی، آنکھوں کی نمی اور دوستی کی لاج نے بالآخر اسے راضی کر لیا۔
عائلہ کے لیے یہ فیصلہ کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ وہ خیام سے محبت کرتی تھی، مگر حالات کے سامنے مجبور تھی۔ اس نے سوچا یہ سب وقتی ہے، وقت گزر جائے گا، خیام لوٹ آئے گا اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
یوں ایک خاموش معاہدے کے تحت نکاح ہو گیا — نام کا رشتہ، بے روح سا تعلق۔
ابتدائی دنوں میں عائلہ اور شرجیل کے درمیان ایک انجانا سا فاصلہ رہا۔ دونوں ایک دوسرے کا احترام کرتے، مگر دلوں میں احتیاط کی دیوار قائم تھی۔ شرجیل نے ہمیشہ عائلہ کی عزت کو مقدم رکھا، اس پر کسی قسم کا دباؤ نہ ڈالا۔ اس کا رویہ نرم، گفتگو شائستہ اور انداز بے حد مہذب تھا۔
وقت ایک خاموش دریا کی طرح بہتا رہا۔
خیام بیرونِ ملک اپنی تعلیم میں مصروف ہو گیا۔ ابتدا میں رابطے رہے، وعدے رہے، خواب رہے… مگر فاصلے کبھی صرف میلوں کے نہیں ہوتے، کبھی وہ دلوں میں بھی اتر آتے ہیں۔ مصروفیات بڑھتی گئیں، گفتگو کم ہوتی گئی، اور احساسات کی شدت مدھم ہونے لگی۔
ادھر عائلہ نے شرجیل کی شخصیت کا وہ پہلو دیکھا جو شاید اس نے کبھی کسی میں نہ دیکھا تھا۔ اس کی خاموش فکر مندی، چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال، اس کی عزتِ نفس کی حفاظت — یہ سب عائلہ کے دل پر دستک دینے لگے۔
ایک دن عائلہ بیمار پڑ گئی۔ شرجیل کی بے چینی، رات بھر جاگ کر تیمارداری کرنا، ڈاکٹر کے پاس بھاگ دوڑ کرنا — یہ سب کسی “معاہدے” کا حصہ نہیں تھا، یہ خالص احساس تھا۔
اسی لمحے عائلہ کے دل میں ایک نیا احساس جنم لینے لگا۔
وہ سوچنے لگی:
“جو شخص بغیر کسی حق کے میرا اتنا خیال رکھتا ہے، اگر اسے مکمل حق مل جائے تو وہ کیسا شریکِ حیات ہوگا؟”
دوسری طرف شرجیل بھی خود کو بدلتا محسوس کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ سب وقتی ہونا تھا، مگر دل کو کون سمجھائے؟ وہ عائلہ کی مسکراہٹ کا منتظر رہنے لگا، اس کی خاموشی پڑھنے لگا، اس کی اداسی کو اپنا دکھ سمجھنے لگا۔
آخرکار وہ دن آیا جب خیام اپنی تعلیم مکمل کر کے واپس لوٹا۔ اس کے دل میں وہی پرانے خواب تھے۔ مگر حالات بدل چکے تھے۔ عائلہ کی آنکھوں میں اب کسی اور کے لیے سکون تھا۔ اس کے لبوں پر جو اعتماد تھا، وہ شرجیل کی موجودگی سے جڑا ہوا تھا۔
سچ کا سامنا سب کے لیے آسان نہ تھا۔
خیام نے پہلی بار محسوس کیا کہ محبت محض خواہش کا نام نہیں، قربانی اور سچائی کا نام ہے۔ اس نے دیکھا کہ شرجیل نے کبھی اس کی امانت میں خیانت نہیں کی، بلکہ اس امانت کی حفاظت کرتے کرتے خود اس کا محافظ بن گیا۔
بڑی خاموشی سے، بڑے ظرف کے ساتھ، خیام نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔
اس نے دل پر پتھر رکھ کر عائلہ کی خوشی کو ترجیح دی۔ کیونکہ کبھی کبھی محبت کا سب سے بڑا ثبوت حاصل کرنا نہیں، چھوڑ دینا ہوتا ہے۔
یوں ایک “پیپر میرج” جو محض وقتی حل تھا، حقیقت کی مضبوط بنیاد بن گیا۔ عائلہ اور شرجیل نے نہ صرف ایک دوسرے کو قبول کیا بلکہ دل سے اپنایا۔ ان کا رشتہ اعتماد، احترام اور سچی محبت کی بنیاد پر قائم ہوا۔
اور خیام؟
وہ اپنی زندگی کی نئی راہوں پر چل پڑا — شاید کچھ زخموں کے ساتھ، مگر دل میں اس اطمینان کے ساتھ کہ اس نے محبت کو خود غرضی نہیں بننے دیا۔
آخرکار، یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ تقدیر کبھی کبھی ہمارے منصوبوں کو بدل دیتی ہے، مگر اگر نیت صاف ہو تو انجام ہمیشہ خوبصورت ہوتا ہے۔
کیونکہ سچی محبت زبردستی نہیں مانگتی، وہ خود بخود دلوں میں جگہ بنا لیتی ہے۔

سوری یار میں یہ سب نہیں کر سکتا۔ اس نے سنتے ہی صاف انکار کر دیا۔
پلیز شرجیل ۔ یہ کام صرف تم ہی کر سکتے ہو۔ خیام احمد نے اصرار کیا۔
تمہارا کیا خیال ہے۔ یہ سب کرنا اتنا آسان ہے۔ نہیں یار میں یہ سب نہیں کر پاؤں گا۔ تم اتنی بھاری ذمہ داری مجھ پر مت ڈالو یہ ناممکن ہے۔ اس کا انداز دو ٹوک تھا۔
اگر تم چاہو تو ممکن ہے۔ خیام نے بڑی امید سے شرجیل کو دیکھا۔
یہ سب کہنا آسان ہے یاز مگر کرنا مشکل ہے۔ اور پھر یہ تین دن یا تین ماہ کی بات نہیں ہے۔ یہ تین برسوں کی بات ہے۔ سوری یار میں نہیں کر سکتا یہ سب اور پھر تم نے عائلہ سے بھی پوچھا
ہے؟ شرجیل کو عائلہ کا خیال آیا۔ اس سے بھی بات کرلوں گا تم تو راضی ہو جاؤ۔ اب کے خیام احمد نے دانت پیسے۔
دیکھ یار تو میری دوستی کا امتحان کسی اور طریقے سے لے کو مگر اتنی بڑی ذمہ داری میں نہیں اٹھاسکوں گا ۔ شرجیل کے انداز میں بے بسی تھی۔ میں کچھ نہیں جانتا بس تو یہ سب کرے گا۔
خیام احمد کا لہجہ دوٹوک تھا اور شرجیل بے بس سی نظر اُس پر ڈال کر رہ گیا۔
واٹ  تم ہوش میں تو ہو۔ جانتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو؟ عائلہ تو اچھیل ہی پڑی۔
تم آرام سے میری پوری بات تو سن لو۔ خیام احمد جھنجلا گیا۔
کیا پوری بات سنوں۔ کوئی ڈھنگ کی بات بھی تو ہو ۔ اب یہ کوئی بات ہوئی بھلا؟؟؟
تم مجھ سے محبت کرتی ہو تو تمہیں میری بات مانی ہوگی ۔ اس کے سوا کوئی حل نہیں ہے میرے پاس۔
پلیز خیام تم ایک بار ٹھنڈے دل سے سوچ تو لو۔ کیا یہ سب جو تم کرنا چاہتے ہو اتنا ہی آسان ہے ۔ عائلہ نے اسے سمجھانا چاہا۔ ہے۔
اگر تم دونوں میرا ساتھ دو تو یہ بہت آسان ہے ۔ خیام کا لہجہ ڈرامائی تھا۔
کیا مطلب؟ اس کے انداز عائلہ کو چونکادیا۔

یہ شادی پیپر میرج تھی ۔ مگر اس کا یہ قاتل روپ ۔ یہ سجی ہوئی سیج ۔ یہ خوابناک ماحول یہ سب تو آن پیپر نہیں تھا۔ اس حسین رات کے فسوں سے نظریں چرا نا شرجیل کو ایک مشکل ترین امر لگ رہا تھا۔ ”کہاں پھنسا دیا تو نے خیام احمد بڑا خوار کرے گی تیری دوستی ۔ خود تو بھاگ گئے مجھے لے کر مروا دیا۔“
عائلہ سادہ کاٹن کا سوٹ پہن کر باہر نکلی ۔ اسے خود بھی رات کے اس کمرے میں شرجیل کے ساتھ تنہا رہنے میں شرم محسوس ہو رہی تھی مگر کیا کرتی وہ الگ کمرے میں بھی تو نہیں رہ سکتی تھی۔
”آپ آرام سے سوجائیں۔“ شرجیل واش روم کی طرف بڑھتے ہوئے بولا ۔ وہ کمروں کے بیچوں بیچ کھڑی تھی۔ آخر کہاں جائے ۔ آخر اس نے بیڈ سے تکیہ اٹھایا اور صوفے کی طرف بڑھ گئی۔

  • No Comments
  • February 25, 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *