Ishq Dua Hai by Lubna Jadoon
By Aesthetic Novels

Ishq Dua Hai by Lubna Jadoon

Views: 9

Genre: Feudal System-Based, Digest Novel, Second Marriage-Based, Forced Marriage-Based

Hero Umar Khan apni qabiyli rawayaat se hat kar apni pasand se Sobana se shadi karta hai 💕
Lekin family use qabool nahi karti 😐
Jirga k faislay k mutabiq use Sobana ko chhorna parta hai aur uski shadi zabardasti Fatima se kar di jati hai 🙂
Sobana pregnant hoti hai aur Umar la-ilm hota hai, usay jurwa betay hotay hain 💔🙂
Fatima k sath Umar shuru mein bht zyadti karta hai aur rude rehta hai 😔
Lekin aakhir uski mohabbat k aagay haar jata hai ❤️
Fatima se Umar k 3 bachay hotay hain: Gula Laye, Mala Laye aur Zyad Khan 💖
Zyad Khan doctor hota hai aur jisay pasand karta hai wo step mother ki behn ki beti Saria hoti hai 🙂
Next-generation ki story bhi bht pyari chalti hai ✨
Must read kren 📖💕
Happy ending hai ❤❤💑

“اب سے پہلے تم میری محبت تھی لالئی! اب تم میرا انتقام ہو۔۔ اگر چاہو تو اپنے بھائی کو بھی یہ بات بتا دینا، کیونکہ مجھے بتائے بغیر جنگ لڑنے کا مزا نہیں آئے گا۔۔ اسے صرف اتنا بتا دینا کہ زخم لگانا مجھے بھی آتا ہے۔۔”
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ربیط!” لالئی کہ سانسیں خشک ہو گئیں
“میں نے بہت آسان زبان میں بات کی ہے، نہ سمجھنے کی تو کوئی بات ہی نہیں۔۔” وہ سنگ دلی سے بولا

“ربیط مجھے بھی بالکل اسی طرح قبول کر لیں جیسے اس ناجائز بچے کو تسلیم کر لیا ہے۔جب اس بچے کو اپنا نام دینے کو تیار ہو تو مجھے بھی اپنی بیوی قبول کرلو۔”
“جاؤ اپنے کمرے میں۔” وہ چلا اٹھا۔
“میں جانتی ہوں کہ بد کردار عورت کا شوہر اس کی انگلی کو ساری عمر ہی زنجیر سے آزاس نہیں کرتا مگر آپ تو جانتے ہیں میں بدکردار نہیں ہوں۔”وہ اس کے سامنے ان کھڑی ہوئی۔
“آپ جانتے ہیں یہ آپ کا بچہ ہے۔آپ جو کر رہے ہیں وہ کل آپ کے لیے گلے کا پھندہ بن جائے گا ربیط۔ میرے سے بدلہ لینے کے لیے اس حد تک مت گریے۔ بیٹا ہوا تو گمنامی کے جنگل میں کئی کھو جائے گا اور اگر خدا نے بیٹی دی تو اس کے لیے یہ لفظ ناجائز گالی بن جائے گا۔ سہ پائیں گے آپ۔”وہ اسے دیکھتا رہ گیا۔
“یہ چائے پی لیں اس کے جواب نہ دینے پر وہ چائے کا کپ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی تو وہ غصے سے اسے ہلکا سا دھکا دے کر باہر جانے لگا وہ لڑکھڑا کے ٹیبل سے جا ٹکرائی۔
میز کا کونا بری طرح اس کے پیٹ میں لگا تو اس کی چیخیں نکل گئیں۔
وہ گھبرا کے اس کی طرف مڑا ہوا پیٹ پر ہاتھ رکھے بری طرح تڑپ رہی تھی۔
“لالئی لالئی۔” اس کی بے قراری پہ تائی امی اور مر جانہ اس کی چیخوں پہ دوڑی چلی ائی اور اسی حالت دیکھ ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
“ربیط کیا ہوا ہے اسے۔” انہوں نے گھبرا کے بیٹے کی طرف دیکھا۔
“اماں دھکا لگ گیا تھا۔”وہ سر جھکا کے بولا تو مرجانہ نے شکوہ بھری نگاہوں سے بھائی کو دیکھا۔
“اسے ہاسپٹل پہنچاؤ مجھے لگتا ہے خدا ہمیں اس عذاب سے نکالنے والا ہے۔”ربیط کے دل پر ہاتھ پڑا۔اس کی اپنی اولاد کو اسکی ماں عذاب بول رہی تھی۔تو یہ افواء بھی تو اسی نے اڑائی تھی کہ یہ بچہ ناجائز ہے۔

  • No Comments
  • March 4, 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *