Tere Mera Rishta Purana By Faryal Khan
Views: 15
Genre: Sacrifice, emotional turmoil, and spiritual, lasting love
ٹھیک ہے میں نے تمہاری مامی سے سودے بازی کی ، مگر اس سودے بازی کی وجہ بھی تو دیکھونا تم ! میں بس تمھیں ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتا تھا۔ “ وہ اسی طرح مزید بولا۔ اور تب ہی جھٹکے سے دروازہ کھلا۔
میں کوئی چیز ہوں جس کی منہ مانگی قیمت ادا کر کے آپ نے اسے خرید لیا! “ افروز نے غم و غصے کی حالت میں کہا۔ اس کی سرخ ہوتی ناک اس کے رونے کی چغلی کھارہی تھی جب کہ گلابی آنکھوں میں بھی بے پناہ شکوہ تھا جسے دیکھ کر اس کا دل کٹ کر رہ گیا۔
افروز پلیز ! وہ اسے بازؤں سے تھام کر بیڈ روم کے وسط میں لے آیا۔
پلیز میری محبت کو سودے کا نام مت دو۔ “ اس نے تڑپ کر التجا کی۔
اگر تم میری لئے وقتی کشش والی کوئی چیز ہوتی تو کیا نکاح کے اتنے دنوں بعد بھی جب ہم تنہا رہ رہے ہیں میں تم سے اتنا دور رہتا ؟“ اب اس کا اند از سوالیہ تھا۔
اگر مجھے تمہارا جسم ہی حاصل کرنا ہو تا تو نکاح کی پہلی ہی رات کیا میں اپنے سارے حقوق استعمال نہیں کر لیتا ؟ اس کے سوال افروز کو لاجواب کر گئے تھے۔
!محترم آیان کے چاچو ”
کل آپ کی غلطیاں نکالنے کیلئے معذرت ! باقی آپ کی انگلش کی لکھائی بہت اچھی ہے ، آپ آیان کا کام کرنے کے بجائے اسے اپنا کام خود کرنے کا کہا کریں، اس میں اس کا ہی فائدہ ہے ، اور معذرت کے ساتھ اپنی اردو کی لکھائی پر بھی توجہ دیں، شکریہ !“
!آیان کی کلاس ٹیچر
نوٹ پڑھ کر وہ بل بھر کو سوچ میں پڑ گیا۔ لیکن پھر اگلے ہی پل اسے ایک خیال آیا۔
”مس! یہ نوٹ میرے چاچو نے دیا ہے آپ کیلئے ۔ “ آیان کی بات پر کاپی چیک کرتی از لفہ نے سر اٹھایا۔
میرے لئے !“ اس نے ڈائری لیتے ہوئے تعجب سے دہرایا اور اس پر لکھی تحریر پڑھنے لگی۔
!محترمہ آیان کی ٹیچر “
لکھائی کی تعریف کرنے کا بہت شکریہ ، باقی آپ آیان کی ہیں میری نہیں ، اس لئے اس پر دھیان دیں، میری غلطیاں مت نکالیں، اور آیان کے پاس کام کی زیادتی کی وجہ سے میں نے اس کی مدد کی ورنہ وہ اپنا کام خود کرتا ہے، باقی میری لکھائی، میری مرضی، میں اسے کیسا بھی رکھوں آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، شکریہ
!آیان کا چاچو
نوٹ پڑھ کر از لفہ کا خون کھول گیا اور جو پہلا لفظ اس کے ذہن میں اس شخص کیلئے ابھرا تھا ”بد تمیز “ پہلے اس نے سوچا کہ آیان کے ذریعے سختی سے اس بد تمیز انسان کو جواب دے۔ مگر پھر اس کی ننھی عمر کو دیکھتے ہوئے خود ہی یہ ارادہ ملتوی کر دیا۔