Ajab Bandhan by Huma Waqas ano2011
Book Name: Ajab Bandhan
Author Name: Huma Waqas
Genre: Arrange Marriage Based, After Marriage Based, Rude Hero Based, Romantic Novel
Status: Complete
دانی۔۔۔ دانی۔۔ پلیز میری بات تو سنیں۔۔۔” وہ اپنی بڑی سی فراک کو سنبھالتی ہوئی پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔
“دانی” وہ بھاگتی ہوئی اس کے پیچھے ایک کمرے میں پہنچی تھی۔۔۔ دانیال ایک کمرے میں جا کر رک گیا تھا۔۔
کیا بات سنو میں تمھاری۔۔۔ ہاں کیا بات سنو ۔۔۔” دانیال نے دانت پیستے ہوئے آواز کو مدھم رکھنے کی ناکام کوشش کی تھی ۔۔۔
“دانی وہ ارسہ بہت ضد کر رہی تھی سب لوگ ۔۔۔” ماہم نے ہاتھوں کو آپس میں پیوست کرتے ہوئے گھبرائی سی شکل میں کہا۔۔۔
جسٹ شٹ اپ کیا سب لوگ۔۔” دانیال نے انگلی کھڑی کرتے ہوئے بات کائی تھی جب کہ ماتھے پر بل تھے اور آنکھیں غصے سے بھری پڑی تھیں۔۔۔
” تم اکیلی لگی ہوئی تھی وہاں باقی سب تو تماشہ دیکھ رہے تھے تمھارا۔۔۔” دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔
دانی نہیں سب لوگ تھے ۔۔۔” ماہم نے لرزتی آواز میں کہا۔۔ وہ گھبرائی تھی اس کے یوں اچانک آجانے پر۔۔۔
پاگل سمجھ رکھا ہے مجھے۔۔ تمھیں جب پتا ہے مجھے نہیں پسند۔۔ تمہیں تو تب میں نے روکا تھا جب ابھی ہمارا رشتہ ہونے جارہا تھا۔۔ اب تو تم میری بیوی ہو ۔۔۔” دانیال نے غرانے کے انداز میں آواز کو مدھم رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“دانی سوری مہ۔۔ مجھے ۔۔۔” ماہا نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔
“اوہ بس کرو تم اب۔۔۔ دانیال نے غصے سے بازو جھٹکا تھا اور رخ موڑ لیا۔۔۔
” آپ میری بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہے میں نے اماں سے اجازت لی تھی۔۔” ما ہم گھوم کر پھر سے سامنے آئی تھی۔۔۔
“اماں ۔۔ سے۔۔۔” دانت پیس کر طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔
” مجھ سے کیوں نہیں ۔۔۔” پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
” دانی آپ یہاں نہیں تھے۔۔” ماہابنے ہوا میں ہاتھ اٹھا کر کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔
مجھے نہیں پتا چلا بھٹی، آپ تو ایسے غصہ کر رہے ہیں، اتنا رش ہے شادی کا”۔ ماہم نے ناک سکیڑ کر کہا اور ہونٹوں کو بھینچ کر دائیں بائیں ایسے جنبش دی جیسے اس کا کوئی قصور نہ ہو۔
آپ اگر آرام سے چل لیں گی اس طرح اچھل اچھل کر صبح سے جیسے پھر رہی ہیں نہیں پھریں گی تو میرا خیال ہے بہت سارے لوگ بچ جائیں گے نقصان سے “۔ دانیال نے غرانے کے انداز میں کہا۔ وہ کل سے یہاں تھے۔ اور اس لڑکی کو اس نے ایک منٹ کے لیے بھی کہیں سکون سے بیٹھے نہیں دیکھا تھا۔ بچی اتنی بھی نہیں تھی جتنی اس کی حرکتیں بھگانا تھیں۔ اونچی اونچی آواز میں قیقے لگاتی بچوں کے پیچھے ان کے کھانے کی چیزیں چھیننے کے لیے بھاگے پھرتی۔ کبھی کسی سے ٹکراتی تو کبھی کسی
اتنا بھی کیا نقصان ہوا آپ کا ہاں؟”۔ اپنے ساتھ کھڑی دوسری لڑکی کو باؤول تھما کر اب وہ کمر پر دونوں ہاتھ رکھے ماتھے پر بل ڈالے الٹا اسی پر چڑھ دوڑی تھی۔
“میرا خیال ہے آپ اندھی نہیں ہیں، یہ میری شرٹ پر آپکو نشان نظر آ رہے ہوں گے اور یہ ابھی اسی وقت میں بدل کر باہر نکلا ہوں”۔ دانیال نے شرٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ جب کہ آواز اب غصے سے بھاری ہو رہی تھی۔
ایک تو اتنے کم کپڑے رکھ کر لایا تھا شادی کے لیے۔ اماں کے بہت کہنے کے باوجود اسے کوفت ہو رہی تھی بیگ بھر بھر کر لے جانے میں۔ اب ان محترمہ نے اس شرٹ کا بھی ستیا ناس کر چھوڑا تھا پاگل کہیں کی۔
اتار کہ دیں مجھے”۔ بڑے انداز سے ہوا میں ہاتھ چلاتے ہوئے کہا۔ ” کیا؟”۔ دانیال نے نا سمجھنے کے انداز میں بھنویں اچکا کر کہا۔ جی اتار کے دیں نہ ابھی دھلاوا دیتی ہوں”۔ لاپرواہی کے انداز میں کہا۔
Click Below and Download Novel in Pdf
Read Online
ناول پڑھنے کے بعد لازمی بتائیں آپ کو ناول کیسا لگا ۔ شکریہ