Basil By Huma Waqas ano2012
Book Name: Basil
Author Name: Huma Waqas
Genre: Forced Marriage-Based, Romantic Novel, Suspense-Based, Heart Touching
Status: Completed
وہ پوری رفتار سے بھاگ رہی تھی ۔ یوں حواس باختہ بھاگنے کی سبب منہ آدھے سے زیادہ کھلا تھا , کندھوں تک آتے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اور کھلے ہونے کے باعث جتنی رفتار سے وہ بھاگ رہی تھی دائیں بائیں جھولتے ہوئے بار بار اس کا چہرہ ڈھک رہے تھے ۔
کپڑوں کے نام پر اس وقت ایک پتلی سی بنا آستین کے نیم برہنہ سفید نائٹی نما فراک کےسوا کچھ بھی اس کے تن پر موجود نہیں تھا , اور اس فراک کی لمبائی اتنی کم تھی کہ گھٹنے ڈھانپنے سے بھی قاصر تھی ۔ نا پیروں میں جوتے تھے , نا کوئی چادر , کہاں وقت تھا وہ جوتے پہنتی یا تن پر چند کپڑوں کا اضافہ کر پاتی ۔
جیسے ہی وہ بدذات جسم نوچنے کی خاطر اوپر جھکا تھا , کانٹا اس کی ران پر گاڑتے ہی وہ بھاگ کھڑی ہوئی , رکنے
کا , کچھ بھی سوچنے کا حتی کہ اگلا سانس لینے کا وقت نہیں تھا اس کے پاس ۔ اور پھر کھڑکی سے پھلانگتی پہاڑ سے اترتی اب نیچے بھاگ رہی تھی ۔ بھاگ کر سانس پھولنے لگی تھی ۔
کل سے ایک نوالہ بھی حلق سے نیچے نہیں اترا تھا , کہاں پتا تھا ایسا موقع میسر آ جائے گا نہیں تو کچھ ضرور کھاتی اور شائد اب زیادہ رفتار سے بھاگ سکتی ۔ ایک دم سے بھاگتے بھاگتے وہ رک گئی تھی سانس بری طرح پھول رہا تھا ۔ بدن میں خون تک منجمند کرتی ٹھنڈ میں بھی پسینے کے ننھے قطرے اس کی پیشانی پر نمودار تھے ۔ دائیں بائیں کمر پر ہاتھ دھرے سانس کو متوازن کرتے وہ اب اردگرد دیکھ رہی تھی ۔
بھاگتے ہوئے تو اتنا محسوس نہیں ہوا تھا مگر اب رکتے ہی جیسے بدن کو یخ بستہ وجود کو چیر کر رگوں میں دوڑتے خون میں سرائیت کرتی ٹھنڈ کا احساس ہوا , وہ کپکپا گئی ۔ ٹھٹھرتے لبوں پر زبان پھیری , دونوں ہاتھوں سے برہنہ کندھوں کو زور سے مسل کر اردگرد دیکھا ۔
چاروں اطراف گھپ اندھیرا تھا , جس میں پوری آنکھیں کھولنے پر بھی حد نگاہ بہت کم تھی ۔ وہ پاگلوں کی طرح کچی سڑک کے وسط میں کھڑی اردگرد جائے پناہ تلاش کر رہی تھی ۔ لیکن ذہن تھا کہ منجمند ہونے لگا تھا اور دانت آپس میں بجنے لگے تھے ۔
لاویا نامی چین کے اس گاؤں میں زیادہ کھیت تھے اور کم گھر , لکڑی اور بانس سے بنے ڈربے نما مکان کچھ اونچائی پر پہاڑوں پر بنائے گئے تھے ۔ جہاں سے وہ اتر کر اب نیچے کھیتوں میں آ چکی تھی ۔
یقینا وہ بھی اس وقت لاویا کے کسی کھیت میں ہی موجود تھی , اگرچہ دو دن میں وہ اس جگہ کے نام کے علاوہ کچھ بھی نہیں جان سکی تھی ۔ اس لیے اب کچھ خبر نہیں تھی اسے کس طرف جانا ہے , بس اتنا یاد تھا کہ لی تاؤ اسے کسی کشتی میں بیٹھا کر اس گاؤں تک لایا تھا اور یہاں واحد ایک پکی سڑک تھی جہاں جان بچانے اور یہاں سے فرار کے لیے پہنچنا ضروری تھا ۔
” ٹانگ اوپر رکھنے کے لئے فوراً میری بیوی کو بہن بنا لیا ۔ واہ “
” فوراً نہیں بنایا ۔ میری بلڈنگ میں رہنے والی ہر لڑکی میری بہن ہی تھی اور جویریہ تو ویسے بھی بہت خاص ہے کیونکہ وہ میرے جگر کی بیوی ہے ۔ “
انل نے محبت سے مسکراتے ہوئے کہا اور آنکھ کا کونا دبایا۔ گفٹ باسکیٹس
” میں ان ایموشنل ڈائیلوگ سے پگھلنے والا نہیں ہوں ۔ وہ کیا کہتے ہیں! اسے کیا رشتہ ہے اس کے ساتھ میرا ؟ “
دران نے ٹھوڑی پر ہاتھ رکھے بھنویں اچکا کر جویریہ کی طرف دیکھا جو ان دونوں کی باتوں سے لطف اٹھاتی ہنس رہی تھی ۔
” سالا لگے آپ انل بھائی کے ۔ “
” رشتہ ہے یا گالی ؟ “
دران نے ایک آبرؤ چڑھائے پوچھا تو جویریہ کے ساتھ انل بھی بھرپور قہقہ لگا گیا ۔
” رشتہ ہی ہے ۔ “
جویریہ نے بمشکل ہنسی پر قابو پا کر جواب دیا ۔ دران نے لب بھینچ کر مصنوعی سنجیدگی طاری کی ۔
Click Below and Download Novel in Pdf
Read Online
ناول پڑھنے کے بعد لازمی بتائیں آپ کو ناول کیسا لگا ۔ شکریہ