Book Name: Hasil E Zeest Author Name: Wajeeha Mehmood Genre: After Marriage, Arrange Marriage, Comedy / Humor, Cousin Marriage, Emergency Nikkah, Fantasy, Mystery / Detective, Novels, Second Marriage Status: Complete
یہ کہانی ہے ٹوٹے ہوئے اعتبار کی کِرچیوں سے زخمی انسانوں کی،گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے انسانوں کی،رشتوں کی ڈور کو ٹوٹنے سے بچانے والوں کی،سب حاصل کر کے خالی ہاتھ رہ جانے والے بد نصیبوں کی،زندگی کو زندہ دلی سے جینے کی کوشش کرنے والوں کی،اپنوں کی خاطر خود قربان ہوتی جانوں کی،اپنا اصل بھول کر گمراہی کی راہوں میں بھٹکتے لوگوں کی،دل میں پیدا ہوتے محبت و نفرت کے جذبوں کی،حلال و حرام میں تمیز بھول جانے والوں کی،زندگی میں کچھ حاصل کرنے اور کچھ لُٹا دینے کی،دوست کا لبادہ اوڑھے حاسدوں کی،ڈوب کر اُبھرتی اُمنگوں کی،اچھے اور بڑے مکافات کی۔یہ کہانی ہے،!حاصل زیست
“آپ سے ایک بات پوچھوں آفاق؟”
“ہمم پوچھو”آفاق کے جواب پر وہ بولنے لگی،
“میں آپ کو پہلی بار کب اچھی لگتی تھی؟”
“جب میں نے تمہیں پھولوں کے درمیان کھڑے،مسکراتے ہوئے شاید پہلی بار دیکھا تھا”
“اب یہی سوال اگر میں تم سے کروں تو تمہارا جواب کیا ہوگا؟”
“جب آپ ہمارے لیے۔۔۔۔میرے لیے عماد سے لڑے تھے”اسے آج بھی آفاق کے الفاظ یاد تھے۔
“اس وقت جو تحفظ کا احساس مجھے ہوا تھا میں بیان نہیں کر سکتی اور وہی وہ لمحہ تھا جب آپ پہلی بار مجھے باقی سب مردوں سے مختلف لگے تھے”وہ سامنے بیٹھے اس شخص کو کیا بتاتی کہ اسکی موجودگی میں جو تحفظ کا احساس اسے ہوتا ہے،وہ ناقابل فراموش ہے۔اسکی بات پر آفاق نے اصباح کے دونوں ہاتھ تھامے،
“تم میری بیوی ہو اصباح،میری ہمسفر،تمہاری حفاظت میری ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری میں اپنی آخری سانس تک نبھاؤں گا”اسکی بات پر وہ اصباح مسکرائی،
“میں جانتی ہوں آفاق،آپ پر مجھے خود سے بھی زیادہ بھروسہ ہے”وہ مسکراتے ہوئے بولی،جس پر آفاق بھی مسکرایا۔
فیضی کا خیال آتے ہی اُس کی آنکھوں میں پھر سے آنسو بھرنے لگے،وہ فرش پر بیٹھ گئ،وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
“تم نےمیرے ساتھ ایسا کیوں کیا فیضی،کیوں!”وہ روتے ہوئے مسلسل ایک ہی جملہ دہرا رہی تھی،وہ صرف بزدل ہی نہیں،وہ بے وفا بھی تھا۔اپنے کیے گئے تمام وعدے بے دردی سے توڑتا،وہ سبرینہ کو چھوڑ چکا تھا۔سبرینہ کی نظر اپنی کلائیوں میں پہنی چوڑیوں پر گئی۔وہ بےدردی سے اُنہیں کھینچتے ہوئے اتارنے لگی،وہ چوڑیاں اس کی کلائیوں کو زخمی کرگئیں۔وہ چوڑیاں نوچ نوچ کر پھینک رہی تھی،اُس کی کلائیوں کے تازہ زخموں سے خون رَسنے لگا تھا مگر اُسے پرواہ ہی کہاں تھی۔یہ زخم تو اُس زخم کے مقابلے کچھ بھی نہ تھے،جو فیضی نے اُسے دیے تھے۔یہ زخم تو جسم پر لگے تھے،ایک نہ ایک دن بھر جانے تھے جبکہ فیضی کا دیا گیا زخم اُس کی روح کو گھائل کر گیا تھا۔
“تمہیں علاج کی کافی ضرورت ہے کہو تو میں کر دوں “وہ مسکراتے ہوئے بولی
“اوہ تو آپ ڈاکٹر ہیں!”وہ متاثر ہوا
“کس چیز کی ڈاکٹر ہیں آپ،دل کی یا دماغ کی؟”سوال فوری تھا۔
“جانوروں کی ڈاکٹر ہوں تبھی تو تمہیں آفر کی ہے۔“
Click Below and Download Novel in Pdf
Read Online
ناول پڑھنے کے بعد لازمی بتائیں آپ کو ناول کیسا لگا ۔ شکریہ