Yaadain By Nabila Aziz
Book Name: Yaadain
Author Name: Nabila Aziz
Genre: Romantic Novel, Haveli-Based, Forced Marriage-Based, University-Based, Rude Hero, Misunderstanding-Based, Enemies to Lovers
Status: Completed
وہ تقریبا”! پانچ روز بعد یونیورسٹی آئی تو اس پہ پہلی نظر حسی کی ہی پڑی تھی وہ بے اختیار اسے دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اور ساری باتیں ترک کر کے اس کے قریب چلا آیا۔
“السلام علیکم کیسی ہیں آپ؟” وہ اپنی وجہ سے کسی کو ملنے والی اتنی تکلیف پر شرمندہ تھا۔ رائنہ اسے اپنے سامنے دیکھ کر بھنا گئی تھی۔ “تم ؟” وہ چبا کر بولی۔
“ایم سوری مس رائنہ ، میری وجہ سے آپ کو اتنی تکلیف اٹھانی پڑی۔ ہم لوگ آپ کی عیادت کے لیے ہسپتال آنا چاہتے تھے لیکن پھر یہ سوچ کر رک گئے کہ شاید آپ کے گھر والوں کو برا لگے، اینی وے آپ یہ بتائیں اب طبیعت کیسی ہے؟” حسی انتہائی شائستگی سے بولتا بہت ہی مہذب انداز میں اس کا حال چال پوچھ رہا تھا۔ کچھ دور بیٹھے اس کے دوست بھی اسے رائنہ کے پاس کھڑے دیکھ رہے تھے۔
“میرا راستہ چھوڑو” رائنہ کا لہجہ سخت تھا۔
“میں نے آپ کی طبیعت پوچھی ہے، راستہ نہیں روکا۔”
“میری طبیعت سے تمہیں کیا مطلب؟” وہ بھی بلا کی غصیلی اور بدگمان لڑکی تھی۔
“آپ کی طبیعت سے مجھے یہ مطلب ہے کہ آپ کی طبیعت میری وجہ سے خراب ہوئی ہے ۔”
“ہونہہ بڑا احساس ہے آپ کو ؟“وہ پھنکاری۔
“بس جی اپنا تو دل ہی ایسا ہے ۔ ” وہ سنجیدگی سے بات کرتے کرتے بھی اپنی شرارتی فطرت سے باز نہیں آیا تھا لیکن رائنہ پھٹ پڑی تھی۔
“شٹ اپ۔ جسٹ شٹ اپ، میں اچھی طرح جانتی ہوں لڑکیوں کو پھانسنے کے بہانے ہیں یہ سب، پہلے ان سے ٹکراتے ہو، پھر عیادت کرتے ہو، پھر ان سے سوری بولتے ہو صرف اور صرف اس لیے کہ بات آگے بڑھانے کا موقع مل سکے، اگر یہ کچھ کرنا ہوتا ہے تو سیدھے سیدھے لڑکیوں کو آفر کر دیا کرو، ان ڈائریکٹ بات کرنے کا کیا فائدہ ؟ جو کچھ چاہتے ہو ڈائریکٹ بول دیا کرو۔” وہ انتہائی تلخی اور اہانت آمیز لہجے میں بول رہی تھی۔
“مس رائنہ حیدر مجھے کوئی شوق نہیں ہے آپ کو پھانسنے کا اور نہ ہی آپ سے روابط بڑھانے کا ، میرے سامنے آپ جیسی ہزاروں قطار باندھے کھڑی ہوتی ہیں اور میری ایک نظر کے لیے بھی ترستی ہیں، ایک آپ نہ ہوئیں تو کیا ہوگا؟ میرے چاہنے والوں میں کمی نہیں آجائے گی لیکن ایک بات میں یقین سے کہہ سکتا ہوں اگر میں واقعی آپ کو پھانسنے کی کوشش کرتا تو یقیناً پھانس بھی لیتا، بس بات یہ ہے کہ میں نے کوشش ہی نہیں کی ، ورنہ آپ تو ” اس نے رائنہ کی ہمیشہ کی تحقیر آمیز نظروں اور باتوں کا حساب پل میں برابر کر دیا تھا وہ تو جسے پاگل ہو اٹھی تھی۔ “ذلیل کمینے، آوارہ لوفر تم اور کہہ بھی کیا سکتے ہو؟
“تم نے مجھ سے شادی کیوں کی ؟” رائنہ نے بے لچک انداز میں استفسار کیا تھا اس کی سوالیہ نظریں حسی کے چہرے پر گڑی تھیں
“تم اچھی لگ گئی ہو، اس لیے۔” اس کا جواب سیدھا اور مختصر سا تھا نگاہوں میں دلچسپی تھی وہ اسے سر تا پا گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“تمہیں تو پتا نہیں کون کون اچھا لگتا ہے؟” رائنہ کا لہجہ تلخ ہو گیا تھا۔
“یار یہ کون کون کا سوال ابھی رہنے دو کبھی فرصت سے جواب دوں گا، ابھی تم اپنی اور میری بات کروں۔” وہ دو قدم بڑھا کر اس کے اور اپنے درمیان کا فاصلہ اور بھی کم کر چکا تھا۔
“اپنی بات؟ اپنی بات یہ کروں کہ مجھے تم جیسے غلیظ انسان سے نفرت ہے تم ایک کریکٹرلیس ”
“شٹ اپ ! جسٹ شٹ اپ رائنہ حسن ، زبان کھینچ لوں گا اگر تم نے آئندہ میرے لیے کریکٹرلیس کا لفظ استعمال کیا تو…” اس نے یکدم غضب ناک انداز میں دھاڑتے ہوئے رائنہ کا چہرہ ایک ہاتھ میں دبوچ لیا تھا اتنی سختی سے کہ رائنہ کا جبڑا کڑ کڑا کے رہ گیا وہ آگ اگلتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“میں کریکٹرلیسں نہیں ہوں، میں بد کردار نہیں ہوں، میں کمزور نفس اور انا کا مارا ہوا انسان نہیں ہوں۔ میں اگر ایسا ہوتا تو آج تم اتنی عزت اور غرور کے ساتھ میرے سامنے کھڑی نہ ہوتی، میں اپنی انسلٹ کے بدلے تمہیں کب کا تمہارے انجام تک پہنچ چکا ہوتا، جس طرح تم نے بیچ چوراہے میں میری توہین کی تھی بالکل اسی طرح اگر میں چاہتا تو تمہیں بیچ چوراہے پہ رسوا اور بدنام کر سکتا تھا، میں اپنی ہتک کے بدلے میں تمہاری عزت پر داغ لگا سکتا تھا، میں تمہیں تمہاری ہی نظروں سے گر سکتا تھا اتنا کہ اپنے آپ سے بھی نظر ملانے کے قابل نہ رہتی آج تک جو غرور تم ساتھ لیے پھر رہی ہو وہ کب کا مٹی میں مل چکا ہوتا مگر ایسا تب ہوتا اگر میں بدکردار ہوتا۔تم نہیں جانتی رائنہ حسن میں نے تم پہ کتنا بڑا احسان کیا ہے اس وقت میرے دوستوں نے مجھ سے کہا بھی تھا کہ میں جیسے چاہوں تم سے برتاؤ کروں وہ ہر طرح سے میرے ساتھ ہیں لیکن میں نے دوستوں کے اکسانے کے باوجود ایسا کچھ نہیں کیا جو تمہیں رسوا کر دیتا اور تم ساری عمر بیٹھ کر روتی رہ جاتی ۔۔” حسی نے کاٹ دار لہجے میں کہتے ہوئے اس کا چہرا جھٹکے سے چھوڑ دیا تھا اور رائنہ گنگ میں اسے دیکھ رہی تھی۔
Click Below and Download Novel in Pdf
Read Online