Gori Tujh Pe Hansta Chand by Shehrish Khan Bhutto
By Urdu Novels

Gori Tujh Pe Hansta Chand by Shehrish Khan Bhutto

Gori Tujh Pe Hansta Chand: Revenge-Based Novel by Shehrish Khan Bhutto

Genre: Romantic Novel, Revenge-Based, Doctor Hero-Based, Forced Marriage-Based, Age Difference-Based
Status: Complete

 

Aesthetic Novels Online is a dedicated platform for social media writers, created to help talented authors publish and share their work with readers around the world.

Gori Tujh Pe Hansta Chand is a popular social romance novel written by Shehrish Khan Bhutto. The story has gained readers’ appreciation for its engaging plot and memorable characters.

Shehrish Khan Bhutto is a well-known digest and social media writer who has contributed to several famous Urdu digests. On this Website, you can explore her complete collection of novels and easily find links to read or download her work.

 

ہیروئن آیت کی بڑی بہن میڈیکل کی طالبہ ہوتی ہے 🩺۔ہیرو فراس لکھو بھی اسی کے ساتھ پڑھتا ہے 👨‍⚕️۔بڑی بہن ہیرو کو اس کی شخصیت کی وجہ سے پسند کرنے لگتی ہے 💕،جبکہ ہیرو اسے بالکل پسند نہیں کرتا 😐۔بعد میں ہیروئن بھی ڈاکٹر بن جاتی ہے 👩‍⚕️،مگر اس کی بڑی بہن شروع سے ہی اس سے بہت حسد کرتی ہے 😒۔ہیروئن اپنے کزن کو پسند کرتی ہے ❤️،لیکن جیسے ہی بڑی بہن کو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے،وہ بھی اسی کزن میں دلچسپی لینا شروع کر دیتی ہے ⚠️۔بعد ازاں ہیروئن اسی اسپتال میں ملازمت شروع کرتی ہے 🏥 جہاں ہیرو فراس اس کا سینئر ڈاکٹر ہوتا ہے 💖۔یہ ایک خوبصورت اور دلکش کہانی ہے 💞،ضرور پڑھیں۔اختتام خوشگوار ہے 💖💏۔

Urdu Sneakpeak

 

“کتنے سنگ دل ہیں آپ لاکھو صاحب۔”
وہ ادائے دلبری سے مسکرائی تھی۔
“اور کس درجہ فارغ الوقت ہیں آپ لاریب صاحبہ۔”
لگتا تھا وہ آج لحاظ کرنے کے موڈ میں ہی نہیں تھا۔پارٹی میں موجود کئی لوگوں کی نظریں آن ہی آن ان پہ آ ٹھہری تھی جبکہ شہد رنگ آنکھیں کسی کی تلاش میں دوڑائے وہ کچھ مضطرب دکھائی دیے۔
“میں نے محبت کی ہے تم سے۔کیا اس بات کی سزا مل رہی ہے مجھے۔”
وہ آج (یا تو نہیں یا تو میں نہیں)والی کیفیت میں تھی شاید یہی وجہ تھی کہ پاس کھڑے لوگوں کا لحاظ کیے بغیر وہ اس ٹاپک پہ آگئی تھی۔
“مجھے لگتا ہے آج آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ کو گھر پر آرام کرنا چاہیے تھا کیونکہ ایسی حالت میں آپ جیسے مریض کا باہر نکلنا ٹھیک نہیں۔”
انتہائی استہزائیہ انداز میں اسے مشورہ دیتے وہ مسکرائے تھے۔
“کیا کمی ہے فارس لاکھو مجھ میں۔”
اپنی بےبسی پہ لاریب کی آنکھیں نمی سمیٹ لائی تھی۔
“کوئی کمی نہیں سوائے اس کے کہ تم جیسی لڑکیاں روز مجھے پرپوز کرتی پھرتی ہیں۔”
یہ بات ڈاکٹر لاکھو نے اپنے دل میں کہی تھی اور لاریب کو کوئی جواب دیے بنا ہی وہ وہاں سے جانے کے ارادے سے ہی ایڑھیوں کے بل گھومے تھے۔
“زارون عباد کے ساتھ عید کے تیسرے دن لاریب کی منگنی ہونے جارہی تھی اور وہ سر لاکھو کو پرپوز ۔۔۔؟”
آیت کا سر چکرارہا تھا۔وہ وہاں سے بھاگنے کے بارے میں سوچ ہی رہی تھی کہ سر لاکھو اس کی جانب پلٹے تھے۔

 

Click Below and Download Novel in PDF

 

ناول پڑھنے کے بعد لازمی بتائیں آپ کو ناول کیسا لگا ۔ شکریہ
  • No Comments
  • July 28, 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *