Mere Humdum Mere Dost by Farhat Ishtiaq
Mere Humdum Mere Dost Romantic Novel by Farhat Ishtiaq
Genre: Age Difference Based, Second Marriage Based, Caring Heroin Based, Happy Ending, Innocent Heroin Based
Status: Complete
Aesthetic Novels Online is a dedicated platform for social media writers, created to help talented authors publish and share their work with readers around the world.
“Mere Humdum Mere Dost” is a popular social romance novel written by “Farhat Ishtiaq.” The story has gained appreciation from readers for its engaging plot and memorable characters.
“Farhat Ishtiaq” is a well-known digest and social media writer who has contributed to several famous Urdu digests. On this Website, you can explore her complete collection of novels and easily find links to read or download her work.
Old sharing se meri favourite aur sab se beautiful age difference based novel hai 💖✨. Mature writing aur beautiful story ki wajah se must read 📖❤️.
Heroin Umme Aiman ke parents ka divorce ho chuka hota hai 💔. Heroin apni mother ke sath rehti hai aur bohat ghurbat mein zindagi guzari hoti hai 😔,jabke father Tofeeq Kamal bohat bare businessman hote hain 💼 aur second marriage kar chuke hote hain.
Mother ki death ke baad 💔 heroin bilkul akeli reh jati hai,tab father use apne paas bula lete hain 🙂.
Hero Haider Masood ❤️ use lene aata hai,jo step mother ka relative aur father ka business partner bhi hota hai 🤝.
Father ke rude behavior se heroin bohat mayus rehti hai 😞. Wo father ki aala degrees aur amarat se bohat mutasir hoti hai aur apni kam mayegi ka aur zyada ehsaas karne lagti hai 🥀,jise hero foran mehsoos kar leta hai 🥹.
Phir hero Haider kis tarah heroin ki personality ko nikharta hai ✨,ye janne ke liye zarur read karen 💕. Hero ka character bohat sweet aur mature hai ❤️. Heroin se 12 saal ka age difference hai 🌸 aur har qadam par heroin ki rehnumai karta hai 🤍.
Aik beautiful love story hai with happy ending 💖🌹💏.
“میں آپ کی زندگی میں کس جگہ پر ہوں حیدر مسعود؟” وہ آج سارے سچ سن لینا چاہتی تھی۔
“کیا ہو گیا ہے تمہیں ایما! یہ کس طرح کے بے وقوفانہ سوالات کر رہی ہو۔ کیا تمہیں نہیں پتا کہ تم میرے لیے کتنی اہم ہو۔ تم میری اتنی پیار دوست ہو۔۔۔”
“آپ بات کو گھما پھرا کر جواب مت دیں۔ آپ کو پتا ہے، میں آپ سے کیا پوچھ رہی ہوں۔ یہ “پیاری دوست ” اور “اہم ہو” والی باتوں سے مطمئین نہیں ہو سکتی۔ آپ سیدھا اور صاف جواب دیں مجھے۔
آپ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟”
“ايما! تمہیں کیا۔۔۔”
کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔۔۔؟”
“نہیں۔۔!”
“آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں؟”
“میں تم سے محبت کرتا ہوں ایما پر اس طرح سے نہیں جیسے۔۔۔
“کرتے ہیں یا نہیں ۔ ۔ ۔؟”
“نہیں!”
اور چھت اس کے سر پر آ کر گر چکی تھی۔ وہ بے یقینی اور حیرت سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔
جس کے بارے میں اسے یقین تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے، وہ اندھا دھند کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔ وہ لفٹ کی طرف تیز قدموں سے جا رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے کورِیڈور میں ایک آواز سنائی دی۔
“ایما!!”
وہ اس آواز کو زندگی میں دوبارہ کبھی سننا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے جنونی انداز میں لفٹ کا بٹن دبا دیا تھا۔
“تم اس طرح سے کہاں جا رہی ہو، سکون سے بیٹھ کر ساری بات سمجھنے کی——–“
لفٹ کا انتظار ترک کرکے وہ سیڑھیوں کی طرف بھاگی تھی۔ وہ اس کے پیچھے نیچے سیڑھیاں اتر رہا تھا۔ وہ اس کی طرح بھاگ نہیں رہا تھا، اس لیے وہ اُس سے خاصا پیچھے تھا۔
آپ فاطمہ سے شادی کس طرح کر سکتے ہیں۔ غصے سے اس کی آواز پھٹ سی گئی تھی۔
“کیوں نہیں کر سکتا بھئی اتنی اچھی لڑکی ہے وہ اعلی تعلیم یافتہ ہے مہذب ہے مسلمان ہے اور میری اور اسکی سوچ میں ہم آہنگی ہے۔” اس نے اس بار بڑی سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔
“یه ساری خوبیاں تو مجھ میں بھی ہیں۔ میں بھی اعلی تعلیم یافتہ ہوں مہذب ہوں مسلمان ہوں آپ کے مزاج کو سمجھتی ہوں۔”
وہ مشتعل انداز میں بولتے بولتے حیدر کے درمیان میں ٹوک دینے کی وجہ سے خاموش ہو گئی۔
“کیا بد تمیزی ہے یہ ایما۔” وہ بہت ناراضگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پہ دوستانہ مسکراہٹ کی جگہ ناگواری نے لے لی تھی۔
“میں کوئی بد تمیزی نہیں کر رہی ہوں۔ آپ کو اچانک شادی کرنے کا خیال کہاں سے آگیا۔ جب آپ کو پتا ہے کہ میں کیسے آدمی کے ساتھ خوش رہ سکتی ہوں تو کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ایسا صرف ایک ہی آدمی ہے اور وہ آپ ہیں۔” اس کی ناراضگی نے ایمن کے غصے میں کوئی کمی نہ کی تھی۔
“بہت غلط بات کر رہی ہو تم ایما۔ تم جانتی ہو کہ تم مجھ سے کتنی چھوٹی ہو۔ تمہیں کسی اور انداز سے دیکھنے کا تو میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ یہ بےہودہ خیال تمہارے ذہن میں آیا کیسے۔”
“آپ کو محبت کرنا گناہ لگتا ہو گا مجھے نہیں۔ مجھے پتہ ہے آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں ۔ “
“آج کے بعد یہ فضول بات تم میرے سے مت کرنا ایما۔ تم ابھی بہت چھوٹی اور معصوم ہو۔ پتا نہیں کیسے یہ بات تمہارے زہن میں آئی۔ توفیق بھائی کو اگر معلوم ہوا تو انہیں کس قدر افسوس ہو گا کہ میں ان کی بیٹی کے ساتھ دوستی کی آڑ میں افئیر چلا رہا تھا۔” وہ در شتگی سے اسے ٹوک اٹھا۔۔۔
Click Below and Download Novel in Pdf
ناول پڑھنے کے بعد لازمی بتائیں آپ کو ناول کیسا لگا ۔ شکریہ