Sarab E Mohabbat by Fatimah Rana
Book Name: Sarab E Mohabbat
Author Name: Fatimah Rana
Genre: A Contemporary Social Romance with Love Triangle, Multiple Couples, and Suspense Drama Elements
Status: Complete
کچھ کہانیاں صرف لکھی نہیں جاتیں، وہ محسوس کی جاتی ہیں، ان کے لیے دل کی گہرائیوں میں اترنا پڑتا ہے۔ محبت ایک سمندر ہے، مگر کیا ہو جب کنارہ سراب بن جائے؟ اس سوال نے مجھے ایک ایسے سفر پر مجبور کیا جہاں میں نے محبت اور اس کے ہر رنگ کو، ہر چمک اور ہر پرچھائی کو محسوس کیا، اور پھر اسے لفظوں میں ڈھالا۔ یہ ایک آسان راستہ نہیں تھا۔ ہر قدم پر مشکلات اور رکاوٹیں آئیں، ہر لفظ کو تراشنے کے لیے مجھے بہت محنت اور صبر کرنا پڑا۔ بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوا جیسے میں اکیلی ہوں، مگر میرا قلم مجھ سے یہ سب کچھ لکھوا رہا تھا۔
جس نے مجھے آج کے ڈیجیٹل دور کی محبت کے ہر رنگ کو محسوس کرنے پر مجبور کیا، جہاں ہر رشتہ اسکرین پر تو چمکتا ہے، مگر حقیقت کی دھوپ میں اس کی پرچھائی تک نہیں ملتی۔
میرا نیا ناول، ‘سرابِ محبت’، آج کے ڈیجیٹل دور کی محبت پر ایک منفرد نظر ہے۔ یہ محض ایک کہانی نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے جس میں آج کی نوجوان نسل اپنی جھلک دیکھے گی۔ یہ آپ کو سوچنے پر مجبور کر دے گا کہ کیا ہر خوبصورت خواب حقیقت ہوتا ہے؟ کیا ہر وہ تعلق جو اسکرین پر چمکتا ہے، حقیقت میں بھی اتنا ہی خوبصورت ہوتا ہے؟ اور کیا ہر چمکتی چیز سونا ہوتی ہے؟ یہ ناول ہمارے دور کے رشتوں کا ایک آئینہ ہے، جہاں حقیقت اور فریب کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی داستان ہے جو آپ کو محبت کی نئی جہتوں سے روشناس کروائے گی۔
یہ تحریر اُن دلوں کے نام ، جو سراب کے پیچھے بھاگتے رہے اور حقیقت کے چشمے سے پیاس نہ بجھا سکے؛
کہ محبت کی وہ لو خدا کی ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔”
“ایبک… کبھی سوچا ہے آپ زخم بھرنے کیوں نہیں دیتے؟ کیونکہ آپ درد کے عادی ہو چکے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ یہ درد ہی آپ کی پہچان ہے۔”
ایبک کا مختصر جواب آیا:
“ماضی بھلانا آسان نہیں ہوتا۔”
عروہ کا لہجہ سخت ہو گیا، جیسے برسوں کا ضبط اب کاغذی لفظوں میں ڈھل رہا ہو:
“نہ بھولنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ خود کو اندھیرے میں دفن کر دیں۔ باہر نکلیں، سانس لیں، جیئیں۔ لیکن آپ ہر بار وہی کھائی تلاش کر لیتے ہیں جس میں گرنے کے بعد آپ کے پاس ایک ہی جواز بچتا ہے— کہ آپ ٹوٹے ہوئے ہیں۔”
ایبک نے کچھ دیر کے توقف کے بعد ٹائپ کیا:
“کچھ زخم مرہم مانگتے ہی نہیں۔”
عروہ کی انگلیاں کی بورڈ پر رک گئیں، جیسے ایک لمحے کو سوچ رہی ہوں کہ یہ شخص کب تک یوں ہی رہے گا۔ پھر اچانک اس نے تیزی سے لکھا:
“پھر میں یہاں کس لیے ہوں، ایبک؟ اگر آپ نے ہمیشہ اندھیروں میں ہی رہنا ہے تو میرا یہاں رہنا غلط ہے۔ میں روشنی دکھانے آئی تھی… لیکن اگر آپ روشنی سے نظریں چُرانا چاہتے ہیں تو میں اپنا وقت کیوں ضائع کروں؟”
یہ الفاظ پڑھ کر ایبک کے اندر جیسے ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔
اس کے ہاتھ بے اختیار لرزنے لگے، دل کی دھڑکن میں ایک ہڑبڑاہٹ سی پیدا ہو گئی۔
وہ گھبراہٹ سے فون کو دیکھتا رہا، جیسے لفظوں کو پلٹ دینے کا کوئی جادو ڈھونڈ رہا ہو۔
اس کی آنکھوں کے آگے لمحہ لمحہ دھندلا سا ہونے لگا۔
دل میں ایک بے بسی کی سرد لہر اتر گئی — ایک ایسا خوف جو کسی اپنے کو ہمیشہ کے لیے کھو دینے کا ہوتا ہے۔
بڑی مشکل سے اس نے آہستہ اور بھاری انگلیوں سے لکھا:
“اگر آپ چلی گئیں… تو میں سمجھوں گا کہ اس دنیا کی یہ ہمدردیاں بھی دھوکے ہیں۔”
عروہ کے ہونٹ سختی سے بھینچ گئے۔
دل میں ایک اور چوٹ نے آہستہ سے اپنی جگہ بنا لی، مگر اس نے آنکھوں کی نمی کو ضبط کے پردے میں چھپا لیا اور بس اتنا ہی لکھا:
“پھر آپ اسے دھوکا سمجھ لیجیے… کیونکہ میں اب مزید نہیں رک سکتی۔”
یہ بھیج کر وہ جیسے اپنے ہی الفاظ سے تھک گئی۔
جھنجھلاہٹ کے ساتھ فون بیڈ پر پھینکا اور ایک گہری سانس لے کر نیم دراز ہو گئی۔
کمرے میں وہی سنّاٹا اتر آیا، جو ٹوٹے ہوئے اعتماد کی خاموش سانسوں سے بھرا ہوا تھا۔
چھت کو گھورتے گھورتے اس کی پلکوں پر ہلکی سی نمی اتر آئی—وہ نمی جو آنسو کا روپ نہیں لیتی، مگر دل کو اندر سے بھیگنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
Click below and download the novel in PDF